Friday, July 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:78,TotalNo:4729


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نکاح کا بیان
باب
نسب و خاندان میں اسلام اور دینداری کے لزوم کا بیان
حدیث نمبر
4729
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ وَکَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبَنَّی سَالِمًا وَأَنْکَحَهُ بِنْتَ أَخِيهِ هِنْدَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَهُوَ مَوْلًی لِامْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ کَمَا تَبَنَّی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا وَکَانَ مَنْ تَبَنَّی رَجُلًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ دَعَاهُ النَّاسُ إِلَيْهِ وَوَرِثَ مِنْ مِيرَاثِهِ حَتَّی أَنْزَلَ اللَّهُ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ إِلَی قَوْلِهِ وَمَوَالِيکُمْ فَرُدُّوا إِلَی آبَائِهِمْ فَمَنْ لَمْ يُعْلَمْ لَهُ أَبٌ کَانَ مَوْلًی وَأَخًا فِي الدِّينِ فَجَائَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ ثُمَّ العَامِرِيِّ وَهِيَ امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا کُنَّا نَرَی سَالِمًا وَلَدًا وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ مَا قَدْ عَلِمْتَ فَذَکَرَ الْحَدِيثَ
ابوالیمان، شعیب، زہری، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا کہتی ہیں ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس نے جو جنگ بدر میں شریک تھے، نے سالم کو بیٹا بنا کر اپنی بھتیجی ہندہ بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ کا نکاح کردیا تھا، سالم ایک انصاری غلام تھے، جیسے آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے زید کو بیٹا بنایا تھا، زمانہ جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ جو کسی کو بیٹا بنا لیا کرتا تو بنانے والے کی طرف منسوب کرکے اسے پکارا جاتا تھا، اوراس کے مرنے کے بعد دولت وغیرہ کا وہی وارث ہوتا تھا، یہاں تک کہ ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ﴾ الخ نازل ہوئی (ہرشخص کو اس کے باپ کے نام سے پکارو یہی ﷲ کے نزدیک بہترہے اگرتم ان کے باپوں کو نہ جانو تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اس فرمان الہی کے نزول کے بعد وہ سب اپنے حقیقی باپوں کے ناموں سے پکارے جانے لگے اور اگر کسی کا نام معلوم نہ ہوتا تو اسے مولی اور دینی بھائی کہا جاتا تھا، سہلہ بنت سہیل بن عمرو قریشی ثم العامری ابوحذیفہ کی بیوی نے آپ صلی ﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول ﷲ! ہم سالم کو اپنا بیٹا سمجھتے ہیں، اب ﷲ نے جو حکم بھیجا ہے اس کے پیش نظر (مجھے کیا کرناچاہئے) پھر پوری حدیث بیان کی-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment