کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
دوسرے شخص سے قرآن مجید پڑھوا کر سننے کا بیان
حدیث نمبر
4694
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ عَلَيَّ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ آقْرَأُ عَلَيْکَ وَعَلَيْکَ أُنْزِلَ قَالَ نَعَمْ فَقَرَأْتُ سُورَةَ النِّسَائِ حَتَّی أَتَيْتُ إِلَی هَذِهِ الْآيَةِ فَکَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی هَؤُلَائِ شَهِيدًا قَالَ حَسْبُکَ الْآنَ فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَإِذَا عَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ
محمد بن یوسف، سفیان، اعمش، ابراہیم، عبیدہ، عبد ﷲ بن مسعود رضی ﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اے عبد ﷲ! مجھے قرآن سنا، میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ میں آپ کو کیا سناؤں، آپ پر ہی تو اتارا گیا ہے، آپ نے فرمایا ہاں، (تم سناؤ) میں نے سورہ نساء پڑھنا شروع کی، جب "فَکَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ " الخ(کیا حال ہوگا جب کہ ہم امت سے گواہ لائیں گے اورتجھے اے پیغمبر! ان پر گواہ لائیں گے) تک پہنچا تو آپ نے فرمایا اب بس کر، میں نے مڑ کر آپ کی طرف دیکھا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment