کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نکاح کا بیان
باب
آزاد عورت کا غلام سے نکاح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
4738
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ عَتَقَتْ فَخُيِّرَتْ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبُرْمَةٌ عَلَی النَّارِ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ فَقَالَ أَلَمْ أَرَ الْبُرْمَةَ فَقِيلَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَی بَرِيرَةَ وَأَنْتَ لَا تَأْکُلُ الصَّدَقَةَ قَالَ هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ
عبد ﷲ بن یوسف، مالک، ربیعہ، بن ابی عبدالرحمن، قاسم بن محمد، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ کے واقعہ میں تین شرعی مسائل ہیں، جب بریرہ آزاد کی گئی تو سرکار دوعالم صلی ﷲ علیہ وسلم نے اختیاردیا اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا حق ولاء آزاد کرنے والے کا حق ہے اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے تو دیکھا ہانڈی چولہے پر تھی، آپ کے سامنے روٹی اور گھر کا سالن رکھا گیا، تو آپ نے فرمایا، اس کی کیا وجہ ہے کہ دسترخوان پرہانڈی کا سالن دیکھنے میں نہیں آیا، جواب دیا گیا کہ اس میں صدقہ کا گوشت ہے جوبریرہ کوملا ہے اور آپ تو صدقہ نہیں کھاتے تو فرمایا وہ بریرہ کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment