کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نکاح کا بیان
باب
کفائت میں مالداری کا لحاظ اور مفلس کا مالدار عورت سے نکاح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
4733
حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَی قَالَتْ يَا ابْنَ أُخْتِي هَذِهِ الْيَتِيمَةُ تَکُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا فَيَرْغَبُ فِي جَمَالِهَا وَمَالِهَا وَيُرِيدُ أَنْ يَنْتَقِصَ صَدَاقَهَا فَنُهُوا عَنْ نِکَاحِهِنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا فِي إِکْمَالِ الصَّدَاقِ وَأُمِرُوا بِنِکَاحِ مَنْ سِوَاهُنَّ قَالَتْ وَاسْتَفْتَی النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِکَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَيَسْتَفْتُونَکَ فِي النِّسَائِ إِلَی وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْکِحُوهُنَّ فَأَنْزَلَ اللَّهُ لَهُمْ أَنَّ الْيَتِيمَةَ إِذَا کَانَتْ ذَاتَ جَمَالٍ وَمَالٍ رَغِبُوا فِي نِکَاحِهَا وَنَسَبِهَا وَسُنَّتِهَا فِي إِکْمَالِ الصَّدَاقِ وَإِذَا کَانَتْ مَرْغُوبَةً عَنْهَا فِي قِلَّةِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ تَرَکُوهَا وَأَخَذُوا غَيْرَهَا مِنْ النِّسَائِ قَالَتْ فَکَمَا يَتْرُکُونَهَا حِينَ يَرْغَبُونَ عَنْهَا فَلَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَنْکِحُوهَا إِذَا رَغِبُوا فِيهَا إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهَا وَيُعْطُوهَا حَقَّهَا الْأَوْفَی فِي الصَّدَاقِ
یحییٰ، لیث، عقیل، ابن شہاب کہتے ہیں کہ عروہ نے حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا سے (وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَی ) کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا اے بھانجے! اس سے وہ یتیم لڑکی مراد ہے جو کسی ولی کے پاس ہواور اسے اس کا مال وجمال پسند ہو (اور اس سے نکاح کرنا چاہتا ہو) لیکن مہر پورا ادا نہ کرنا چاہتا ہو، ایسے لوگوں کو ﷲ تعالی نے یتیم لڑکی سے شادی کرنے سے منع فرمایا ہے اور ان کے علاوہ دوسری عورتوں سے نکاح کرنے کا حکم دیا ہے، بشرطیکہ ان کوپورا مہر ادا کرنے میں کمی نہ کریں، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے بعد لوگوں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے فتوی مانگا، ﷲ تعالی عزوجل نے یہ آیت (وَيَسْتَفْتُونَکَ فِي النِّسَائِ ) نازل فرمائی، جس کا مطلب ہے کہ یتیم لڑکی اگرخوبصورت اورمالدار ہوتو ولیوں کو اس کا نسب اوراس سے نکاح کرنا مرغوب معلوم ہوتا ہے اور جب مفلس اور بدصورت ہوتو وہ اس کوناپسند کرتے ہیں، تب اسے چھوڑکرکسی اور عورت سے نکاح کرلیتے تھے، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا نے (مطلب) بتایا کہ جیسے تم ناپسندی کی وجہ سے چھوڑ دیتے ہو یوں ہی رغبت کے وقت بھی چھوڑ دو، مگر جب کہ تم انصاف کرسکو اور اس کا پورا پورا حق مہر ادا کرسکو-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment