Monday, August 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:739,TotalNo:5390

کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
لباس کا بیان
باب
کناری دارتہبند کا بیان۔
حدیث نمبر
5390
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ جَائَتْ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جَالِسَةٌ وَعِنْدَهُ أَبُو بَکْرٍ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي کُنْتُ تَحْتَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلَاقِي فَتَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مَعَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا مِثْلُ هَذِهِ الْهُدْبَةِ وَأَخَذَتْ هُدْبَةً مِنْ جِلْبَابِهَا فَسَمِعَ خَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ قَوْلَهَا وَهُوَ بِالْبَابِ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ قَالَتْ فَقَالَ خَالِدٌ يَا أَبَا بَکْرٍ أَلَا تَنْهَی هَذِهِ عَمَّا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا وَاللَّهِ مَا يَزِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی التَّبَسُّمِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّکِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَی رِفَاعَةَ لَا حَتَّی يَذُوقَ عُسَيْلَتَکِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ فَصَارَ سُنَّةً بَعْدُ
ابوالیمان، شعیب، زہری، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا زوجہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کہتی ہیں کہ رفاعہ قرظی آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں اس حال میں حاضر ہوئی کہ میں (بھی آپ کے پاس) بیٹھی ہوئی تھی اور آپ کے پاس حضرت ابوبکر بھی تھے، اس نے عرض کیا یا رسول ﷲ! میں رفاعہ کی زوجیت میں تھی، انہوں نے مجھے طلاق بتہ دے دی، اس کے بعد میں نے عبدالرحمن بن زبیر سے نکاح کیا، لیکن یا رسول ﷲ! اس کے پاس (عضو خاص) کپڑے کے پھندنے کی طرح ہے اور اپنی چادر کا ایک کونا پکڑ کر دکھایا (کہ یوں اور اس طرح ہے) خالد بن سعید جو دروازے پرکھڑے تھے اور داخلہ کی اجازت نہیں ملی تھی، نے اس عورت کی آواز سنی، انہوں نے کہا اے ابوبکر اس عورت کو کیوں نہیں روکتے، جوآپ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس بلند آواز سے بول رہی ہے، پس نہیں و ﷲ! رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم مسکرادئیے اور اس عورت سے فرمایا شاید تو رفاعہ کے پاس لوٹنا چاہتی ہے، اور ایسا ہو نہیں سکتا تاآنکہ وہ تیری لذت اور تو اس کی لذت نہ چکھ لے، اس کے بعد یہی دستور بن گیا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment