صحیح بخاری
کتاب
مشروبات کا بیان
باب
کھڑے ہو کر پینے کا بیان
حدیث نمبر
5226
حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مَيْسَرَةَ سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ صَلَّی الظُّهْرَ ثُمَّ قَعَدَ فِي حَوَائِجِ النَّاسِ فِي رَحَبَةِ الْکُوفَةِ حَتَّی حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ ثُمَّ أُتِيَ بِمَائٍ فَشَرِبَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَذَکَرَ رَأْسَهُ وَرِجْلَيْهِ ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَهُ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ إِنَّ نَاسًا يَکْرَهُونَ الشُّرْبَ قِيَامًا وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُ
آدم، شعبہ، عبدالملک بن میسرہ، نزال بن سبرہ، حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے ظہر کی نماز پڑھی پھرلوگوں کی ضروریات کے لئے کوفہ کی مسجد کے صحن میں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ عصر کی نماز کاوقت آگیا، پھر پانی لایا گیا، تو انہوں نے پیا، اور منہ ہاتھ دھوئے اور شعبہ نے سراور پاؤں کا بھی ذکر کیا، پھر کھڑے ہوئے اور کھڑے ہی کھڑے بچاہوا پانی پی لیا، پھر فرمایا کہ لوگ کھڑے ہوکر پینے کو مکروہ سمجھتے ہیں، حالانکہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا ہے، جس طرح میں نے کیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment