حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُکُمْ فَلْيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ مَائً ثُمَّ لِيَنْتَثِرْ وَمَنْ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ وَإِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُکُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلْيَغْسِلْ يَدَهُ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا فِي وَضُوئِهِ فَإِنَّ أَحَدَکُمْ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ
عبدﷲ بن یوسف، مالک، ابوالزناد، اعرج، ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی وضو کرے تو چاہئے کہ وہ اپنی ناک میں پانی ڈالے پھر (اس کو) صاف کرے اور جو کوئی پتھر سے استنجا کرے تو چاہیے کہ طاق پتھروں سے کرے اور جب نیند سے بیدار ہو تو اپنے ہاتھ کو وضو کے پانی میں ڈالنے سے پہلے دھو لے، اس وجہ سے کہ تم میں سے کوئی یہ نہیں جانتا کہ رات کا اس کا ہاتھ کہاں رہا ہے
کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = وضو کا بیان
باب = طاق پتھر وں سے استنجاء کا بیان
جلد نمبر 1
حدیث نمبر 162
عبدﷲ بن یوسف، مالک، ابوالزناد، اعرج، ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی وضو کرے تو چاہئے کہ وہ اپنی ناک میں پانی ڈالے پھر (اس کو) صاف کرے اور جو کوئی پتھر سے استنجا کرے تو چاہیے کہ طاق پتھروں سے کرے اور جب نیند سے بیدار ہو تو اپنے ہاتھ کو وضو کے پانی میں ڈالنے سے پہلے دھو لے، اس وجہ سے کہ تم میں سے کوئی یہ نہیں جانتا کہ رات کا اس کا ہاتھ کہاں رہا ہے
کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = وضو کا بیان
باب = طاق پتھر وں سے استنجاء کا بیان
جلد نمبر 1
حدیث نمبر 162
No comments:
Post a Comment