کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
وضو کا بیان
باب
جب نمازی کی پیٹھ پر نجاست یا مردار ڈال دیا جائے تو اس کی نماز فاسد نہ ہوگی۔
حدیث نمبر
237
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ قَالَ ح و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي عِنْدَ الْبَيْتِ وَأَبُو جَهْلٍ وَأَصْحَابٌ لَهُ جُلُوسٌ إِذْ قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْض أَيُّکُمْ يَجِيئُ بِسَلَی جَزُورِ بَنِي فُلَانٍ فَيَضَعُهُ عَلَی ظَهْرِ مُحَمَّدٍ إِذَا سَجَدَ فَانْبَعَثَ أَشْقَی الْقَوْمِ فَجَائَ بِهِ فَنَظَرَ حَتَّی سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَهُ عَلَی ظَهْرِهِ بَيْنَ کَتِفَيْهِ وَأَنَا أَنْظُرُ لَا أُغْنِي شَيْئًا لَوْ کَانَ لِي مَنَعَةٌ قَالَ فَجَعَلُوا يَضْحَکُونَ وَيُحِيلُ بَعْضُهُمْ عَلَی بَعْضٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ لَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ حَتَّی جَائَتْهُ فَاطِمَةُ فَطَرَحَتْ عَنْ ظَهْرِهِ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ عَلَيْکَ بِقُرَيْشٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَشَقَّ عَلَيْهِمْ إِذْ دَعَا عَلَيْهِمْ قَالَ وَکَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الدَّعْوَةَ فِي ذَلِکَ الْبَلَدِ مُسْتَجَابَةٌ ثُمَّ سَمَّی اللَّهُمَّ عَلَيْکَ بِأَبِي جَهْلٍ وَعَلَيْکَ بِعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ وَعَدَّ السَّابِعَ فَلَمْ يَحْفَظْ قَالَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ رَأَيْتُ الَّذِينَ عَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَرْعَی فِي الْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ
عبدان، ابوعبدان، شعہ، ابواسحاق، عمرو بن میمو ن، عبدﷲ (بن مسعود رضی ﷲ تعالیٰ عنہ) نے فرمایا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے قریب نماز پڑھ رہے تھے اور ابوجہل اور اس کے چند دوست بیٹھے ہوئے تھے، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ تم میں سے کوئی شخص فلاں قبیلہ کی اونٹنی کی اوجھری لے آئے اور اس کو محمد کی پشت پر، جب وہ سجدہ میں جائیں، رکھ دے، پس سب سے زیادہ بدبخت عقبہ اٹھا، اور وہ لے آیا اور دیکھتا رہا، جب نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سجدہ میں گئے، فورا ہی اس نے اس کو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے دونوں شانوں کے درمیان میں رکھ دیا، میں یہ حال دیکھ رہا تھا، مگر کچھ نہ کر سکتا تھا، کاش میرے ہمراہ کچھ لوگ ہوتے (تو میں کیوں یہ حالت دیکھتا) عبدﷲ کہتے ہیں، پھر وہ لوگ ہنسنے لگے اور ایک دوسرے پر (مارے ہنسی کے) گرنے لگے اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سجدہ میں تھے، اپنا سر نہ اٹھا سکتے تھے، یہاں تک کہ فاطمہ آئیں اور انہوں نے اسے آپ کی پیٹھ سے پھنکا، تب آپ نے اپنا سر اٹھایا اور کہا کہ یا ﷲ قریش کی ہلا کت یقینی فرما دے، تین مرتبہ فرمایا، یہ ان پر شاق ہوا کیونکہ آپ نے انہیں بد دعا دی، عبدﷲ کہتے ہیں وہ جانتے تھے کہ اس شہر (مکہ) میں دعا قبول ہوتی ہے، پھر آپ نے (ہر ایک کے) نام لئے کہ اے ﷲ ابوجہل کی ہلاکت یقینی فرما اور عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ اور امیہ اور عقبہ بن ابی معیط کی ہلاکت یقینی فرما، اور ساتویں کو گنایا، مگر اس کا نام مجھے یاد نہیں رہا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں نے ان لوگوں (کی لاشوں) کو، جن کا نام رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے لیا تھا، کنویں میں (بدر کے کنویں میں) گرا ہوا دیکھا-
No comments:
Post a Comment