کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
وضو کا بیان
باب
عورت کا اپنے والد کے چہرہ سے خون کو دھونے کا بیان
حدیث نمبر
240
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَامٍ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ وَسَأَلَهُ النَّاسُ وَمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ أَحَدٌ بِأَيِّ شَيْئٍ دُووِيَ جُرْحُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا بَقِيَ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي کَانَ عَلِيٌّ يَجِيئُ بِتُرْسِهِ فِيهِ مَائٌ وَفَاطِمَةُ تَغْسِلُ عَنْ وَجْهِهِ الدَّمَ فَأُخِذَ حَصِيرٌ فَأُحْرِقَ فَحُشِيَ بِهِ جُرْحُهُ
محمد، سفیان بن عیینہ، ابوحازم سے روایت ہے کہ سہل بن سعد ساعدی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے لوگوں نے پوچھا تھا (اور میں بھی وہاں موجود سن رہا تھا) کہ کس چیز سے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے زخم کا علاج کیا گیا؟ تو وہ بولے کہ اس کا جا ننے والے مجھ سے زیادہ (اب) کوئی باقی نہیں رہا، حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اپنی ڈھال میں پانی لے آتے تھے اور فاطمہ آپ کے چہرے سے خون دھوتی تھیں، پھر ایک چٹائی لے کر جلائی گئی اور آپ کے زخم میں بھر دی گئی-
No comments:
Post a Comment