کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نماز قصر کا بیان
باب
جب یہ معلوم نہ ہو (یاد نہ رہے) کہ کتنی رکعت پڑھی ہیں۔
حدیث نمبر
1155
حدثنا معاذبن فضالة حدثناهشام بن ابي عبدالله الدستوائي عن يحي بن ابي کثيرعن ابي سلمة عن ابي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم اذابالصلوة ادبر الشيطان وله ضراط حتی لايسمع الاذان فاذاقضی الاذان اقبل فاذاثوب بها ادبرفاذاقضی التثويب اقبل حتی يخطر بين المرئ ونفسه يقول اذکر کذا وکذامالم يکن يذکر حتی يظل الرجل ان يدری کم صلی فاذالم يدراحدکم کم صلی ثلاثا او اربعا فليسجد سجدتين وهوجالس
معاذ بن فضالہ، ہشام بن عبدﷲ دستوائی، یحیی بن ابی کثیر ابوسلمہ، ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کے لئے اذان کہی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے تاکہ اذان کو نہ سنے اور جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو واپس آجاتا ہے، پھر جب نماز کی تکبیر کہی جاتی ہے، تو بھاگتا ہے اور جب تکبیر ختم ہوجاتی ہے تو وہ آتا ہے یہاں تک کہ انسان اور اس کے دل میں خطرہ اور وسوسہ پیدا کرتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں فلاں باتیں یاد کر جو یاد نہیں آتی تھیں، یہاں تک کہ آدمی ایسا ہوجاتا ہے کہ اسے یاد نہیں رہتا کہ کتنی نماز پڑھی، اس لئے جب تم میں سے کسی کو یاد نہ رہے کہ کتنی نماز پڑھی ہے، تین یا چار رکعت تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment