Sunday, December 5, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1158


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نماز قصر کا بیان
باب
نماز میں اشارہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
1158
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَهُ أَنَّ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ کَانَ بَيْنَهُمْ شَيْئٌ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْلِحُ بَيْنَهُمْ فِي أُنَاسٍ مَعَهُ فَحُبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَانَتْ الصَّلَاةُ فَجَائَ بِلَالٌ إِلَی أَبِي بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا أَبَا بَکْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حُبِسَ وَقَدْ حَانَتْ الصَّلَاةُ فَهَلْ لَکَ أَنْ تَؤُمَّ النَّاسَ قَالَ نَعَمْ إِنْ شِئْتَ فَأَقَامَ بِلَالٌ وَتَقَدَّمَ أَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَکَبَّرَ لِلنَّاسِ وَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فِي الصُّفُوفِ حَتَّی قَامَ فِي الصَّفِّ فَأَخَذَ النَّاسُ فِي التَّصْفِيقِ وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا أَکْثَرَ النَّاسُ الْتَفَتَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُهُ أَنْ يُصَلِّيَ فَرَفَعَ أَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَرَجَعَ الْقَهْقَرَی وَرَائَهُ حَتَّی قَامَ فِي الصَّفِّ فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی لِلنَّاسِ فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا لَکُمْ حِينَ نَابَکُمْ شَيْئٌ فِي الصَّلَاةِ أَخَذْتُمْ فِي التَّصْفِيقِ إِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَائِ مَنْ نَابَهُ شَيْئٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ حِينَ يَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ إِلَّا الْتَفَتَ يَا أَبَا بَکْرٍ مَا مَنَعَکَ أَنْ تُصَلِّيَ لِلنَّاسِ حِينَ أَشَرْتُ إِلَيْکَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا کَانَ يَنْبَغِي لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
قتیبہ بن سعید، یعقوب بن عبدالرحمن، ابوحازم، سہل بن سعد ساعدی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو خبرملی کہ بنی عمرو بن عوف کے درمیان کچھ جھگڑا ہے، اس لئے آپ لوگوں کے ساتھ نکلے، تاکہ ان کے درمیان صلح کرا دیں، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو رکنا پڑا اور نماز کا وقت آگیا، بلال رضی ﷲ عنہ حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ کے پاس پہنچے اور کہا اے ابوبکر رضی ﷲ عنہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم روک لئے گئے اور نماز کا وقت آچکا ہے کیا آپ لوگوں کی امامت کریں گے؟ ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے جواب دیا کہ ہاں، اگر تمھاری خواہش ہو بلال نے تکبیر کہی اور ابوبکر آگے بڑھے، پھر تکبیر تحریمہ کہی اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے یہاں تک کہ صف میں مل گئے تو لوگوں نے تالی بجانا شروع کردی اور ابوبکر رضی ﷲ عنہ نماز میں کسی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے، جب لوگوں نے بہت زیادہ تالی بجانا شروع کیا اور ابوبکر رضی ﷲ عنہ مڑے اور دیکھا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم موجود ہیں- رسول ﷲ نے اپنے ہاتھ سے حکم دیتے ہوئے اشارہ کیا کہ نماز پڑھائیں، ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور ﷲ کی حمد بیان کی اور الٹے پاؤں پیچھے لوٹ گئے یہاں تک کہ صف میں آکر کھڑے ہوگئے، پھر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، جب فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اے لوگو! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب نماز میں تمہیں کوئی بات پیش آتی ہے تو تالی بجانا شروع کردیتے ہو، حالانکہ تالی بجانا عورتوں کے لئے ہے، جب نماز میں کوئی بات پیش آئے تو سبحان ﷲ کہنا چاہئے، اس لئے جو شخص بھی سبحان ﷲ کہتے ہوئے سنے گا وہ ضرور متوجہ ہوگا، (پھر ابوبکر کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا) اے ابوبکر رضی ﷲ عنہ تمہیں کس چیز نے نماز پڑھانے سے روکا جب کہ میں نے تمہیں نماز پڑھانے کا اشارہ کیا؟ ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے عرض کیا ابوقحافہ کے بیٹے کے لئے مناسب نہ تھا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے آگے نماز پڑھائے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment