کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنازوں کا بیان
باب
میت کے پاس جب وہ کفن میں رکھ دیاگیا ہو موت کے بعد جانے کا بیان
حدیث نمبر
1168
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْکَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا قُتِلَ أَبِي جَعَلْتُ أَکْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ أَبْکِي وَيَنْهَوْنِي عَنْهُ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْهَانِي فَجَعَلَتْ عَمَّتِي فَاطِمَةُ تَبْکِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبْکِينَ أَوْ لَا تَبْکِينَ مَا زَالَتْ الْمَلَائِکَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّی رَفَعْتُمُوهُ تَابَعَهُ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
محمد بن بشار، غندر، شعبہ محمد بن منکدر سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عبدﷲ کو کہتے ہوئے سنا کہ جب میرے والد قتل کئے گئے تو میں کپڑا ان کے چہرے سے ہٹانے لگا اور رونے لگا اور لوگ مجھے اس سے منع کر رہے تھے، اور نبی صلی ﷲ علیہ وسلم مجھے اس سے منع کر رہے تھے، تو میری پھوپھی فاطمہ رونے لگیں، نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم روؤ یا نہ روؤ فرشتے اپنے پروں سے ان پر سایہ کئے رہے یہاں تک کہ تم نے اٹھالیا ابن جریج نے ان کے متابع حدیث روایت کی کہ مجھ سے ابن منکدر نے بیان کیا انہوں نے جابر سے سنا۔
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment