کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنازوں کا بیان
باب
اس شخص کا بیان جس نے مصیبت کے وقت غم کو ظاہر نہ کیا۔
حدیث نمبر
1219
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ اشْتَکَی ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ قَالَ فَمَاتَ وَأَبُو طَلْحَةَ خَارِجٌ فَلَمَّا رَأَتْ امْرَأَتُهُ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ هَيَّأَتْ شَيْئًا وَنَحَّتْهُ فِي جَانِبِ الْبَيْتِ فَلَمَّا جَائَ أَبُو طَلْحَةَ قَالَ کَيْفَ الْغُلَامُ قَالَتْ قَدْ هَدَأَتْ نَفْسُهُ وَأَرْجُو أَنْ يَکُونَ قَدْ اسْتَرَاحَ وَظَنَّ أَبُو طَلْحَةَ أَنَّهَا صَادِقَةٌ قَالَ فَبَاتَ فَلَمَّا أَصْبَحَ اغْتَسَلَ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ أَعْلَمَتْهُ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ فَصَلَّی مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا کَانَ مِنْهُمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُبَارِکَ لَکُمَا فِي لَيْلَتِکُمَا قَالَ سُفْيَانُ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَرَأَيْتُ لَهُمَا تِسْعَةَ أَوْلَادٍ کُلُّهُمْ قَدْ قَرَأَ الْقُرْآنَ
بشر بن حکم، سفیان بن عینیہ، اسحاق بن عبدﷲ بن ابی طلحہ، انس بن مالک رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ابوطلحہ رضی ﷲ عنہ کا ایک لڑکا بیمار پڑا اور مرگیا، ابوطلحہ رضی ﷲ عنہ باہر تھے جب ان کی بیوی نے دیکھا کہ لڑکا مرچکا ہے تو کچھ سامان کیا اور کفن پہنا کر گھر کے ایک گوشہ میں اس کو رکھ دیا، جب ابوطلحہ رضی ﷲ عنہ آئے تو پوچھا لڑکا کیسا ہے؟ بیوی نے جواب دیا کہ اس کی طبیعت کو سکون ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ آرام میں ہے- ابوطلحہ نے سمجھا کہ وہ سچی ہے، چناچہ انہوں نے رات گزاری جب صبح ہوئی اور غسل کر کے باہر جانے کا ارادہ کیا تو بیوی نے انہیں بتایا کہ کہ لڑکا مرچکا ہے، پھر ابوطلحہ نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی پھر نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے واقعہ کا بیان کیا جو ان دونوں کے ساتھ ہوا تھا، تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امید ہے کہ ﷲ تعالی تم دونوں کو تمہاری ذات میں برکت عطا فرمائے گا سفیان کا بیان ہے کہ ایک انصاری شخص نے کہا میں نے ان دونوں کے لڑکے دیکھے سب کے سب قاری تھے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment