کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
زکوۃ کا بیان
باب
بکریوں کی زکوٰۃ کا بیان۔
حدیث نمبر
1366
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّی الْأَنْصَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کَتَبَ لَهُ هَذَا الْکِتَابَ لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَی الْبَحْرَيْنِِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِهَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمُسْلِمِينَ وَالَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا رَسُولَهُ فَمَنْ سُئِلَهَا مِنْ الْمُسْلِمِينَ عَلَی وَجْهِهَا فَلْيُعْطِهَا وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهَا فَلَا يُعْطِ فِي أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ مِنْ الْإِبِلِ فَمَا دُونَهَا مِنْ الْغَنَمِ مِنْ کُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ إِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ إِلَی خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ أُنْثَی فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلَاثِينَ إِلَی خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ أُنْثَی فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ إِلَی سِتِّينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ فَإِذَا بَلَغَتْ وَاحِدَةً وَسِتِّينَ إِلَی خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ فَإِذَا بَلَغَتْ يَعْنِي سِتًّا وَسَبْعِينَ إِلَی تِسْعِينَ فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَی وَتِسْعِينَ إِلَی عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ فَإِذَا زَادَتْ عَلَی عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي کُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَفِي کُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَمَنْ لَمْ يَکُنْ مَعَهُ إِلَّا أَرْبَعٌ مِنْ الْإِبِلِ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلَّا أَنْ يَشَائَ رَبُّهَا فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا مِنْ الْإِبِلِ فَفِيهَا شَاةٌ وَفِي صَدَقَةِ الْغَنَمِ فِي سَائِمَتِهَا إِذَا کَانَتْ أَرْبَعِينَ إِلَی عِشْرِينَ وَمِائَةٍ شَاةٌ فَإِذَا زَادَتْ عَلَی عِشْرِينَ وَمِائَةٍ إِلَی مِائَتَيْنِ شَاتَانِ فَإِذَا زَادَتْ عَلَی مِائَتَيْنِ إِلَی ثَلَاثِ مِائَةٍ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ فَإِذَا زَادَتْ عَلَی ثَلَاثِ مِائَةٍ فَفِي کُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ فَإِذَا کَانَتْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ نَاقِصَةً مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةً وَاحِدَةً فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلَّا أَنْ يَشَائَ رَبُّهَا وَفِي الرِّقَّةِ رُبْعُ الْعُشْرِ فَإِنْ لَمْ تَکُنْ إِلَّا تِسْعِينَ وَمِائَةً فَلَيْسَ فِيهَا شَيْئٌ إِلَّا أَنْ يَشَائَ رَبُّهَا
محمد بن عبدﷲ بن مثنی انصاری، عبدﷲ بن مثنی، ثمامہ بن عبدﷲ بن انس سے حضرت انس رضی ﷲ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے جب ان کو یمن کی طرف بھیجا تو یہ لکھ کردیا (جس کا مضمون یہ تھا) بسم ﷲ الرحمن الرحیم یہ فرض صدقہ (زکوٰۃ) ہے جو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض کیا ہے اور جس کا ﷲ تعالی نے اپنے رسول کو حکم دیا ہے اس لئے جس مسلمان سے اس کے مطابق طلب کیاجائے تو وہ دیدے اور جس سے اس سے زیادہ مانگا جائے تو وہ نہ دے- چوبیس اونٹوں اور اس سے کم میں ہر پانچ اونٹ پر ایک بکری دے اور جب پچیس سے پینتیس تک پہنچ جائے تو اس میں ایک مادہ بنت مخاض دے اور چھتیس سے پینتالیس تک ایک مادہ بنت لبون دے اور جب چھیالیس ہوں تو ساٹھ تک ایک حقہ (چار سال کی اونٹنی) جو جفتی کے قابل ہو دے، اکسٹھ سے پچھتر تک ایک جذعہ دے اور چھہتر سے نوے تک دو بنت لبون اکیانوے سے ایک سو بیس تک دو حقہ جفتی کے قابل دے اور جب ایک سو بیس سے زیادہ ہوں تو ہر چالیس میں ایک بنت لبون اور ہر پچاس میں ایک حقہ دے اور جس شخص کے پاس صرف چار ہی اونٹ ہوں تو اس پر زکوٰۃ نہیں ہے مگر یہ اس کا مالک دینا چاہے (تو لیا جاسکتا ہے) اور جب پانچ اونٹ ہوں تو ایک بکری ہے- اور چرنے والے بکریوں کی زکوٰۃ میں چالیس سے ایک سو بیس تک میں ایک بکری واجب ہے اور ایک سو بیس سے زیادہ ہوں تو دو سو تک میں دو بکریاں، دو سو سے تین سو تک میں تین بکریاں اور جب تین سو سے زیادہ ہوں تو ہر سو پر ایک بکری دینی ہوگی اور کسی شخص کی چرنے والی بکریاں اگر چالیس سے ایک کم ہوں تو اس میں زکوٰۃ واجب نہیں مگر یہ کہ اس کا مالک دینا چاہے اور چاندی میں چالیسواں حصہ زکوٰۃ فرض ہے اگر کسی شخص کے پاس نوے درہم ہوں، تو اس میں کچھ زکوٰۃ نہیں ہے مگر یہ کہ اس کا مالک دینا چاہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment