Sunday, December 12, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1441


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
حج کا بیان
باب
کپڑے سے خلوق کو تین بار دھونے کا بیان۔
حدیث نمبر
1441
حدثنا محمد قال حدثنا ابوعاصم النبيل قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قال أَخْبَرَنِي عَطَائٌ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَی أَخْبَرَهُ أَنَّ يَعْلَی قَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرِنِي النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُوحَی إِلَيْهِ قَالَ فَبَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ جَائَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ تَرَی فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ فَسَکَتَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً فَجَائَهُ الْوَحْيُ فَأَشَارَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَی يَعْلَی فَجَائَ يَعْلَی وَعَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبٌ قَدْ أُظِلَّ بِهِ فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْمَرُّ الْوَجْهِ وَهُوَ يَغِطُّ ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَقَالَ أَيْنَ الَّذِي سَأَلَ عَنْ الْعُمْرَةِ فَأُتِيَ بِرَجُلٍ فَقَالَ اغْسِلْ الطِّيبَ الَّذِي بِکَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَانْزِعْ عَنْکَ الْجُبَّةَ وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِکَ کَمَا تَصْنَعُ فِي حَجَّتِکَ قُلْتُ لِعَطَائٍ أَرَادَ الْإِنْقَائَ حِينَ أَمَرَهُ أَنْ يَغْسِلَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فقَالَ نَعَمْ
محمد، ابوعاصم نبیل، ابن جریج، عطاء، صفوان بن یعلی نے عطاء سے بیان کیا کہ یعلی نے حضرت عمر سے کہا مجھے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کو اس حالت میں دکھائیے کہ آپ پر وحی اتر رہی ہو تو حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا کہ اس دوران میں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے اور آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ بھی تھے- تو ایک شخص آپ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ یا رسول ﷲ آپ اس شخص کے متعلق کیا فرماتے ہیں جس نے عمرہ کا احرام باندھا اور اس کے کپڑے خوشبو سے لتھڑے ہوئے ہیں ؟ تو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم تھوڑی دیر خاموش رہے آپ پر وحی آنے لگی- عمر نے یعلی کو اشارہ کیا تو یعلی آئے اس حال میں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم پر ایک کپڑا تنا ہوا تھا جس سے سایہ کئے ہوئے تھے- یعلی نے اپنا سر کپڑے کے اندر ڈالا تو دیکھا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہے اور خراٹے لے رہے ہیں، پھر یہ کیفیت دور ہوگئی تو آپ نے فرمایا وہ شخص کہاں ہے ؟ جس نے عمرہ کے متعلق پوچھا- وہ شخص لایا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس خوشبو کو تین بار دھو ڈالو جو تیرے ساتھ ہے اور اپنا جبہ اتار دے اور اپنے عمرہ میں بھی وہی کر جو تو حج میں کرتا ہے- ابن جریج کا بیان ہے کہ میں نے عطاء سے پوچھا کہ آپ نے جو تین بار دھونے کا حکم دیا، تو اس سے آپ کی مراد صفائی تھی تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment