کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
حج کا بیان
باب
اللہ تعالی کا قول کہ حج کے چند مہینے مقرر ہیں۔
حدیث نمبر
1462
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرٍ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ وَلَيَالِي الْحَجِّ وَحُرُمِ الْحَجِّ فَنَزَلْنَا بِسَرِفَ قَالَتْ فَخَرَجَ إِلَی أَصْحَابِهِ فَقَالَ مَنْ لَمْ يَکُنْ مِنْکُمْ مَعَهُ هَدْيٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ کَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ فَلَا قَالَتْ فَالْآخِذُ بِهَا وَالتَّارِکُ لَهَا مِنْ أَصْحَابِهِ قَالَتْ فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَکَانُوا أَهْلَ قُوَّةٍ وَکَانَ مَعَهُمْ الْهَدْيُ فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَی الْعُمْرَةِ قَالَتْ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْکِي فَقَالَ مَا يُبْکِيکِ يَا هَنْتَاهُ قُلْتُ سَمِعْتُ قَوْلَکَ لِأَصْحَابِکَ فَمُنِعْتُ الْعُمْرَةَ قَالَ وَمَا شَأْنُکِ قُلْتُ لَا أُصَلِّي قَالَ فَلَا يَضِيرُکِ إِنَّمَا أَنْتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ کَتَبَ اللَّهُ عَلَيْکِ مَا کَتَبَ عَلَيْهِنَّ فَکُونِي فِي حَجَّتِکِ فَعَسَی اللَّهُ أَنْ يَرْزُقَکِيهَا قَالَتْ فَخَرَجْنَا فِي حَجَّتِهِ حَتَّی قَدِمْنَا مِنًی فَطَهَرْتُ ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ مِنًی فَأَفَضْتُ بِالْبَيْتِ قَالَتْ ثُمَّ خَرَجَتْ مَعَهُ فِي النَّفْرِ الْآخِرِ حَتَّی نَزَلَ الْمُحَصَّبَ وَنَزَلْنَا مَعَهُ فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَکْرٍ فَقَالَ اخْرُجْ بِأُخْتِکَ مِنْ الْحَرَمِ فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ افْرُغَا ثُمَّ ائْتِيَا هَا هُنَا فَإِنِّي أَنْظُرُکُمَا حَتَّی تَأْتِيَانِي قَالَتْ فَخَرَجْنَا حَتَّی إِذَا فَرَغْتُ وَفَرَغْتُ مِنْ الطَّوَافِ ثُمَّ جِئْتُهُ بِسَحَرَ فَقَالَ هَلْ فَرَغْتُمْ فَقُلْتُ نَعَمْ فَآذَنَ بِالرَّحِيلِ فِي أَصْحَابِهِ فَارْتَحَلَ النَّاسُ فَمَرَّ مُتَوَجِّهًا إِلَی الْمَدِينَةِ ضَيْرِ مِنْ ضَارَ يَضِيرُ ضَيْرًا وَيُقَالُ ضَارَ يَضُورُ ضَوْرًا وَضَرَّ يَضُرُّ ضَرًّا
محمد بن بشار، ابوبکر حنفی، افلح بن حمید، قاسم بن محمد، عائشہ رضی ﷲ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے مہینوں میں، حج کی راتوں میں حج کے زمانے میں نکلے، ہم نے سرف میں قیام کیا، عائشہ رضی ﷲ عنہا کا بیان ہے کہ آپ اپنے صحابہ کے پاس آئے اور فرمایا کہ تم میں سے جس کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو اور وہ اس کو عمرہ بنانا چاہتا ہے تو عمرہ بنالے اور جس کے پاس قربانی کا جانور ہو، وہ ایسا نہ کرے، عائشہ نے کہا، کہ بعض صحابہ نے اس پر عمل کیا اور بعض نے اس پرعمل نہیں کیا، لیکن رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم اور آپ کے بعض صحابہ قوت والے تھے، اور ان کے پاس قربانی کا جانور تھا اس لئے وہ عمرہ نہیں کر سکتے تھے، عائشہ نے کہا کہ میرے پاس رسول ﷲ تشریف لائے، اس حال میں کہ میں رو رہی تھی- آپ نے فرمایا کہ اے بھولی بھالی عورت ! تو کیوں رو رہی ہے؟ میں نے جواب دیا آپ نے جو اپنے ساتھیوں سے فرمایا وہ میں نے سن لیا اب تو میں عمرہ نہیں کرسکتی، آپ نے فرمایا کہ کیا بات ہے؟ میں نے جواب دیا کہ میں نماز نہیں پڑھتی (یعنی حائضہ ہوں) آپ نے فرمایا کہ تیرے لئے کوئی حرج نہیں، تو آدم کی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی ہے، جو تمام عورتوں کے مقدر میں لکھا ہے، وہ تیرے مقدر میں بھی ہے، تو اپنے حج میں رہ، بہت ممکن ہے کہ ﷲ تجھے عمرہ نصیب کرے، عائشہ رضی ﷲ عنہا نے کہا کہ ہم حج کے لئے نکلے یہاں تک کہ ہم منیٰ پہنچے، میں وہاں پاک ہوگئی- پھر میں منیٰ سے نکلی خانہ کعبہ کا طواف کیا، پھر میں آپ کے ساتھ آخری کوچ میں نکلی، یہاں تک کہ آپ محصب میں اترے اور ہم بھی آپ کے ساتھ اترے، تو آپ نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو بلایا اور فرمایا کہ اپنی بہن کو حرم سے باہر لے جاؤ تاکہ وہ عمرے کا احرام باندھے، پھر دونوں عمرے سے فارغ ہوکر یہاں آؤ۔
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment