Sunday, December 12, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1466


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
حج کا بیان
باب
تمتع، قران، اور افراد حج کا بیان۔
حدیث نمبر
1466
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الْعُمْرَةَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ مِنْ أَفْجَرِ الْفُجُورِ فِي الْأَرْضِ وَيَجْعَلُونَ الْمُحَرَّمَ صَفَرًا وَيَقُولُونَ إِذَا بَرَا الدَّبَرْ وَعَفَا الْأَثَرْ وَانْسَلَخَ صَفَرْ حَلَّتْ الْعُمْرَةُ لِمَنْ اعْتَمَرْ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً فَتَعَاظَمَ ذَلِکَ عِنْدَهُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْحِلِّ قَالَ حِلٌّ کُلُّهُ
موسی بن اسماعیل، وہیب، ابن طاوس اپنے والد سے، وہ حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ عربوں کا خیال تھا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا دنیا کا بدترین گناہ ہے اور محرم کو صفر بنا لیتے تھے اور کہتے تھے کہ جب اونٹ کی پیٹھ کا زخم اچھا ہوجائے اور نشانات مٹ جائیں اور صفر گزر جائے ، تو عمرہ حلال ہے، اس شخص کے لئے جو عمرہ کرنا چاہتا ہے، نبی صلی ﷲ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ چوتھی کی صبح کو حج کا احرام باندھے ہوئے مکہ میں تشریف لائے، آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ اسے عمرہ بنادیں، لوگوں پر یہ بات گراں گزری- لوگوں نے پوچھا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کون سی چیز حلال ہوگی؟ آپ نے فرمایا تمام چیزیں حلال ہوں گی-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment