صحیح بخاری
کتاب
مشروبات کا بیان
باب
کیا آدمی اپنے دائیں طرف والے آدمی سے اجازت لے سکتا ہے کہ بڑے آدمی کے لئے دے
حدیث نمبر
5230
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ وَعَنْ يَسَارِهِ الْأَشْيَاخُ فَقَالَ لِلْغُلَامِ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلَائِ فَقَالَ الْغُلَامُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْکَ أَحَدًا قَالَ فَتَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ
اسماعیل، مالک، ابوحازم بن دینار، سہل بن سعد کہتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس پینے کی چیز لائی گئی، تو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے اس میں پانی پی لیا، آپ کے دائیں طرف ایک لڑکا تھا اور بائیں طرف معمر لوگ تھے، آپ نے اس لڑکے سے فرمایا کیا تو اجازت دیتا ہے کہ یہ میں ان لوگوں کو دے دوں، اس نے کہا یا رسول ﷲ! بخدا میں آپ کی طرف سے (ملے ہوئے) اپنے حصہ میں کسی کو اپنے اوپر ترجیح نہ دوں گا، سہل بن سعد کا بیان ہے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے اس کے ہاتھ میں ٹپک دیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment