صحیح بخاری
کتاب
مشروبات کا بیان
باب
میٹھا پانی پینے کا بیان
حدیث نمبر
5221
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُ کَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَکْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا مِنْ نَخْلٍ وَکَانَ أَحَبُّ مَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَائَ وَکَانَتْ مُسْتَقْبِلَ الْمَسْجِدِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَائٍ فِيهَا طَيِّبٍ قَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا نَزَلَتْ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ قَامَ أَبُو طَلْحَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَإِنَّ أَحَبَّ مَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَائَ وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ أَرَاکَ اللَّهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَخٍ ذَلِکَ مَالٌ رَابِحٌ أَوْ رَايِحٌ شَکَّ عَبْدُ اللَّهِ وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ وَإِنِّي أَرَی أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَفِي بَنِي عَمِّهِ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ وَيَحْيَی بْنُ يَحْيَی رَايِحٌ
عبد ﷲ بن مسلمہ، مالک، اسحاق بن عبد ﷲ ، انس بن مالک رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ ابوطلحہ انصارمدینہ میں کھجور کے درختوں کے اعتبار سے بہت زیادہ مالدار تھے، اور ان کا سب سے زیادہ پسندیدہ مال بیرحاء تھا اور اس کارخ مسجد کی طرف تھا، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم وہاں تشریف لے جاتے اور اس کاشیریں پانی پیتے، حضرت انس رضی ﷲ عنہ کا بیان ہے کہ جب یہ آیت ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ﴾ نازل ہوئی، تو ابوطلحہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول ﷲ! ﷲ تعالی فرماتا ہے کہ تم ہرگز نیکی کو نہ پاؤ گے جب تک کہ تم اس چیزکو خرچ نہ کروجو تمہیں محبوب ہواور میرامحبوب مال بیرحاء ہے، اور وہ میں ﷲ تعالی کی راہ میں خیرات کرتا ہوں، ﷲ کے نزدیک اس کے ثواب کا (آخرت میں) جمع رہنے کا امیدوار ہوں، اس لئے یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم جس مصرف میں آپ مناسب سمجھیں خرچ کریں، آپ نے فرمایا کیا خوب یہ نفع کا سودا ہے، یا یہ فرمایا کہ بڑھنے والا مال ہے (عبد ﷲ کو شک ہوا کہ دونوں میں سے آپ نے کیا فرمایا) تم نے جو کچھ کہا میں نے سن لیا، لیکن میں مناسب سمجھتاہوں کہ تو اس کو اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کردے، ابوطلحہ نے کہا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم میں ایساہی کروں گا، چناچہ ابوطلحہ نے اس کو چچازاد بھائیوں میں اور رشتہ داروں میں تقسیم کردیا اور اسماعیل ویحییٰ بن وکیع نے رابح کا لفظ استعمال کیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment