صحیح بخاری
کتاب
مشروبات کا بیان
باب
سونے کے برتن میں (پانی) پینے کا بیان
حدیث نمبر
5242
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَی قَالَ کَانَ حُذَيْفَةُ بِالْمَدَايِنِ فَاسْتَسْقَی فَأَتَاهُ دِهْقَانٌ بِقَدَحِ فِضَّةٍ فَرَمَاهُ بِهِ فَقَالَ إِنِّي لَمْ أَرْمِهِ إِلَّا أَنِّي نَهَيْتُهُ فَلَمْ يَنْتَهِ وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنْ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَالشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَقَالَ هُنَّ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَهِيَ لَکُمْ فِي الْآخِرَةِ
حفص بن عمر، شعبہ، حکم، ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ حذیفہ مدائن میں تھے، تو انہوں نے پانی مانگا، ایک دیہاتی ان کے پاس چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا، تو حذیفہ رضی ﷲ عنہ نے اسے پھینک دیا اور کہا کہ میں اس کو نہ پھینکتا، لیکن (اس سبب سے پھینکا) کہ میں نے اس کو منع کردیا تھا، پھر بھی یہ باز نہیں آیا اور آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ہمیں حریر، دیباج اور سونے چاندی کے برتن میں پینے سے منع فرمایاہے اور فرمایاہے کہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور تمہارے لئے آخرت میں ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment