کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنازوں کا بیان
باب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ ہم تمہاری جدائی کے باعث غمزدہ ہیں
حدیث نمبر
1221
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا قُرَيْشٌ هُوَ ابْنُ حَيَّانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی أَبِي سَيْفٍ الْقَيْنِ وَکَانَ ظِئْرًا لِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِبْرَاهِيمَ فَقَبَّلَهُ وَشَمَّهُ ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَيْهِ بَعْدَ ذَلِکَ وَإِبْرَاهِيمُ يَجُودُ بِنَفْسِهِ فَجَعَلَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَذْرِفَانِ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ يَا ابْنَ عَوْفٍ إِنَّهَا رَحْمَةٌ ثُمَّ أَتْبَعَهَا بِأُخْرَی فَقَالَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَی رَبُّنَا وَإِنَّا بِفِرَاقِکَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ رَوَاهُ مُوسَی عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ المُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حسن بن عبدالعزیز، یحیی بن حسان، قریش بن حیان، ثابت، انس بن مالک رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم لوگ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ ابوسیف لوہار کے پاس پہنچے- یہ ابراہیم کے دودھ پلائی کے شوہر تھے، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ابراہیم کو پکڑا ان کے منہ پر اپنا منہ رکھ کر پیار کیا- پھر اس کے بعد ہم ابوسیف کے پاس پہنچے اور ابراہیم اپنی جان دے رہے تھے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی آنکھوں میں سے آنسو بہنے لگے- عبدالرحمن بن عوف عرض کیا آپ یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم رو رہے ہیں آپ نے فرمایا کہ اے ابن عوف یہ تو شفقت رحمت ہے، پھر روئے تو آپ نے فرمایا آنکھیں روتی ہیں اور دل غمگین ہوتا ہے اور ہم نہیں کہتے، مگر وہی بات جس سے ہمارا رب راضی ہے اور ہم اے ابراہیم تمہارے فراق کے باعث غمگین ہیں اس کو موسی نے سلیمان بن مغیرہ سے انہوں نے ثابت سے ثابت نے انس سے اور انس نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment