کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنازوں کا بیان
باب
نوحہ اور رونے کی ممانعت اور اس سے روکنے کا بیان۔
حدیث نمبر
1223
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ لَمَّا جَائَ قَتْلُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَجَعْفَرٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ جَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ وَأَنَا أَطَّلِعُ مِنْ شَقِّ الْبَابِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نِسَائَ جَعْفَرٍ وَذَکَرَ بُکَائَهُنَّ فَأَمَرَهُ بِأَنْ يَنْهَاهُنَّ فَذَهَبَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَتَی فَقَالَ قَدْ نَهَيْتُهُنَّ وَذَکَرَ أَنَّهُنَّ لَمْ يُطِعْنَهُ فَأَمَرَهُ الثَّانِيَةَ أَنْ يَنْهَاهُنَّ فَذَهَبَ ثُمَّ أَتَی فَقَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ غَلَبْنَنِي أَوْ غَلَبْنَنَا الشَّکُّ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ فَزَعَمَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ فَقُلْتُ أَرْغَمَ اللَّهُ أَنْفَکَ فَوَاللَّهِ مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ وَمَا تَرَکْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْعَنَائِ
محمد بن عبدﷲ بن حوشب، عبدالوہاب، یحیی بن سعید، عمرہ، عائشہ رضی ﷲ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ جب زید بن حارثہ جعفر رضی ﷲ عنہ اور عبدﷲ بن رواحہ کی شہادت کی خبر پہنچی تو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم بیٹھے اور آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کے چہرے پر غم کا اثر ظاہر ہو رہا تھا اور میں دروازہ کے سوراخ سے دیکھ رہی تھی، ایک شخص آیا اور عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم! جعفر رضی ﷲ عنہ کی عورتیں رو رہی ہیں- آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے اس کو حکم دیا کہ ان عورتوں کو جاکر منع کرے تو وہ آدمی گیا اور پھر واپس آیا اور کہا کہ میں نے ان عورتوں کو منع کیا اور بیان کیا کہ عورتوں نے کہانہیں مانا- آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے دوسری بار پھر انہیں منع کرنے کا حکم دیا پھر وہ گیا اور پھر آیا اور کہا کہ بخدا عورتیں مجھ پر غالب ہو گئیں، یا یہ کہا کہ ہم لوگوں پر غالب آ گئیں (محمد بن حوشب کو شک ہوا) عائشہ رضی ﷲ عنہ نے کہا کہ ﷲ تیری ناک خاک آلود کرے بخدا تو نہیں کرنے والا ہے (اس کا جو اب آپ نے حکم دیا ہے) اور تو نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے لئے کوئی مشقت نہیں چھوڑی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment