کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
باب
دفن کئے جانے کے بعد قبر پر نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر
1252
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَسْوَدَ رَجُلًا أَوْ امْرَأَةً کَانَ يَکُونُ فِي الْمَسْجِدِ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ فَمَاتَ وَلَمْ يَعْلَمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَوْتِهِ فَذَکَرَهُ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ مَا فَعَلَ ذَلِکَ الْإِنْسَانُ قَالُوا مَاتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَفَلَا آذَنْتُمُونِي فَقَالُوا إِنَّهُ کَانَ کَذَا وَکَذَا قِصَّتُهُ قَالَ فَحَقَرُوا شَأْنَهُ قَالَ فَدُلُّونِي عَلَی قَبْرِهِ فَأَتَی قَبْرَهُ فَصَلَّی عَلَيْهِ
محمد بن فضل، حماد بن زید، ثابت، ابورافع، ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک سیاہ مرد یاعورت مسجد میں جھاڑو دیتی تھی وہ مرگیا تو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کو خبر نہ ہوئی، اس کو ایک دن آپ نے یاد کیا اور فرمایا کہ وہ آدمی کہاں گیا ؟ لوگوں نے کہا یا رسول ﷲ وہ تو مرگیا- آپ نے فرمایا کہ مجھے اطلاع کیوں نہیں دی؟ لوگوں نے کہا کہ اس کا فلاں فلاں واقعہ ہے، گویا اس کے مرتبہ کو لوگوں نے حقیر سمجھا آپ نے فرمایا اسکی قبر مجھے بتلاؤ چناچہ آپ اس کی قبر پر آئے اور اس پر نماز پڑھی
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment