Friday, December 10, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1253


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنازوں کا بیان
باب
مردہ جوتوں کی آواز سنتا ہے۔
حدیث نمبر
1253
حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ وَقَالَ لِي خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَبْدُ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتُوُلِّيَ وَذَهَبَ أَصْحَابُهُ حَتَّی إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ أَتَاهُ مَلَکَانِ فَأَقْعَدَاهُ فَيَقُولَانِ لَهُ مَا کُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ فَيُقَالُ انْظُرْ إِلَی مَقْعَدِکَ مِنْ النَّارِ أَبْدَلَکَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنْ الْجَنَّةِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا وَأَمَّا الْکَافِرُ أَوْ الْمُنَافِقُ فَيَقُولُ لَا أَدْرِي کُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ فَيُقَالُ لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ ثُمَّ يُضْرَبُ بِمِطْرَقَةٍ مِنْ حَدِيدٍ ضَرْبَةً بَيْنَ أُذُنَيْهِ فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيهِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ
عیاش، عبدالاعلی، سعید، خلیفہ، ابن زریع، سعید، قتادہ، انس رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ جب اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے اور (اس کو دفن کرکے) پیٹھ پھیر لی جاتی ہے اور اس کے ساتھی رخصت ہوجاتے ہیں، یہاں تک کہ جوتوں کی آواز کو سنتا ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس کو بٹھاکر کہتے ہیں کہ اس شخص یعنی محمد صلی ﷲ علیہ وسلم کے متعلق تو کیا کہتا ہے؟ وہ کہتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ ﷲ کے بندے اور اس کے رسول ہیں- تو اس سے کہا جاتا ہے کہ اپنے جہنم کے ٹھکانے کی طرف دیکھ کہ ﷲ تعالی نے اس کے بدلے میں تجھے جنت کا ٹھکانہ عطاء کیا- نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ان دونوں چیزوں (جنت اور جہنم) کو دیکھے گا اور کافر یا منافق کہے گا کہ میں نہیں جانتا میں تو وہی کہتا ہوں جو لوگ کہتے تھے تو کہاجائے گا تو نے نہ جانا اور نہ سمجھا، پھر لوہے کے ہتھوڑے سے اس کے کانوں کے درمیان مارا جائے گا تو وہ چیخ مارے گا اور اس کی چیخ کو جن وانس کے سوا اس کے آس پاس کی چیزیں سنتی ہیں-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment