کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنازوں کا بیان
باب
قبر پر مسجد بنانے کا بیان۔
حدیث نمبر
1256
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا اشْتَکَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَکَرَتْ بَعْضُ نِسَائِهِ کَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ يُقَالُ لَهَا مَارِيَةُ وَکَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَأُمُّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَتَتَا أَرْضَ الْحَبَشَةِ فَذَکَرَتَا مِنْ حُسْنِهَا وَتَصَاوِيرَ فِيهَا فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ أُولَئِکِ إِذَا مَاتَ مِنْهُمْ الرَّجُلُ الصَّالِحُ بَنَوْا عَلَی قَبْرِهِ مَسْجِدًا ثُمَّ صَوَّرُوا فِيهِ تِلْکَ الصُّورَةَ أُولَئِکِ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ
اسمعیل، مالک، ہشام، اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی صلی ﷲ علیہ وسلم بیمار پڑے تو آپ کی بعض بیویوں نے ملک حبشہ کے ایک گرجا گھر کا تذکرہ کیا جسے ماریہ کہا جاتا تھا- ام سلمہ رضی ﷲ عنہا اور ام حبیبہ رضی ﷲ عنہا ملک حبشہ گئیں تھیں، تو ان دونوں نے اس گرجا کی خوبصورتی اور ان تصویروں کا حال بیان کیا جو اس گرجا میں تھیں- آپ نے سر اٹھایا اور فرمایا کہ یہ لوگ وہ ہیں کہ جب ان کا کوئی مرد صالح مرجاتا تھا تو یہ اس قبر پر مسجد بنالیتے تھے پھر اس کی تصویریں بنالیتے تھے یہ لوگ ﷲ تعالی کی بدترین مخلوق ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment