کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنازوں کا بیان
باب
شہید پر نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر
1259
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّی عَلَی أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَی الْمَيِّتِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ إِنِّي فَرَطٌ لَکُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْکُمْ وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَی حَوْضِي الْآنَ وَإِنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْکُمْ أَنْ تُشْرِکُوا بَعْدِي وَلَکِنْ أَخَافُ عَلَيْکُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا
عبدﷲ بن یوسف، لیث، یزید بن ابی حبیب، ابوالخیر، عقبہ بن عامر، سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم ایک دن نکلے تو احد والوں پر نماز پڑھی، جس طرح مردوں پر پڑھی جاتی ہے، پھر منبر کی طرف لوٹے اور فرمایا کہ میں آگے جانے والا ہوں اور میں تم پر گواہ ہوں، و ﷲ میں اپنے حوض کی طرف ابھی دیکھ رہا ہوں، اور زمین کے خزانے کی کنجیاں دیا گیا ہوں یا یہ فرمایا کہ زمین کی کنجیاں مجھے دی گئی ہیں اور بخدا مجھے اس کو خوف نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرنے لگو، لیکن مجھے ڈر ہے کہ تم حصول دنیا میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے لگو گے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment