Friday, December 10, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1263


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنازوں کا بیان
باب
قبرمیں اذخر یاگھاس ڈالنے کا بیان۔
حدیث نمبر
1263
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَرَّمَ اللَّهُ مَکَّةَ فَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَلَا لِأَحَدٍ بَعْدِي أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ لَا يُخْتَلَی خَلَاهَا وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُعَرِّفٍ فَقَالَ الْعَبَّاسُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَّا الْإِذْخِرَ لِصَاغَتِنَا وَقُبُورِنَا فَقَالَ إِلَّا الْإِذْخِرَ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقُبُورِنَا وَبُيُوتِنَا وَقَالَ أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَقَالَ مُجَاهِدٌ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لِقَيْنِهِمْ وَبُيُوتِهِمْ
محمد بن عبدﷲ بن حوشب، عبدالوہاب، خالد، عکرمہ، ابن عباس رضی ﷲ عنہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ ﷲ تعالی نے مکہ کو حرام قرار دیا ہے، مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں تھا اور نہ میرے بعد کسی کے لئے حلال ہوگا- میرے لئے دن کے ایک تھوڑے حصہ میں حلال کیا گیا اور نہ اس کا شکار بھگایا جائے گا اس کی تر گھاس نہ اکھاڑی جائے گی اور نہ اس کا درخت کاٹا جائے گا اور نہ یہاں کی گری پڑی چیز اٹھائی جائے گی- مگر اعلان کرنے والے کے لئے جائز ہے- عباس نے کہا کہ مگر اذخر کہ ہمارے سناروں کے لئے حلال اور ہماری قبروں کے لئے حلال کر دیجئے- آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سوا اذخر کے اور ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے روایت کیا ہماری قبروں اور ہمارے گھروں کے لئے اور ابان صالح نے بہ سند حسن بن مسلم، صفیہ بن شیبہ، نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے اس کے مثل روایت کیا ہے اور مجاہد نے طاوس سے انہوں نے ابن عباس سے روایت کیا کہ ان کے لوہاروں کے لئے اور ان کے گھروں کے لئے حلال کرنے کو کہا۔



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment