کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنازوں کا بیان
باب
کیا میت کو کسی عذر کی بناء پر قبر یا لحد سے نکالا جاسکتا ہے؟
حدیث نمبر
1264
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَتَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ حُفْرَتَهُ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ فَوَضَعَهُ عَلَی رُکْبَتَيْهِ وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ فَاللَّهُ أَعْلَمُ وَکَانَ کَسَا عَبَّاسًا قَمِيصًا قَالَ سُفْيَانُ وَقَالَ أَبُو هَارُونَ يَحْيَی وَکَانَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَانِ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلْبِسْ أَبِي قَمِيصَکَ الَّذِي يَلِي جِلْدَکَ قَالَ سُفْيَانُ فَيُرَوْنَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْبَسَ عَبْدَ اللَّهِ قَمِيصَهُ مُکَافَأَةً لِمَا صَنَعَ
علی بن عبدﷲ، سفیان، عمرو، جابر بن عبدﷲ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم عبدﷲ بن ابی کی قبر کے پاس پہنچے وہ قبر میں دفن کیا جا چکا تھا، آپ نے اس کو نکالنے کا حکم دیا چناچہ وہ نکالا گیا- آپ نے اس کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھا اور اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈال دیا اور اپنی قمیص اس کو پہنادی- ﷲ زیادہ جانتا ہے اور اس نے ابن عباس کو قمیص پہنائی تھی، سفیان کا بیان ہے ابوہریرہ نے کہا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی دو قمیصیں تھیں تو آپ سے عبدﷲ کے بیٹے نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم میرے باپ کو اپنی قمیص عنایت کر دیجئے جو آپ کے جسم کے ساتھ متصل ہے، سفیان نے کہا کہ لوگوں کا خیال ہے کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے عبدﷲ کو اپنی قمیص اس صلہ میں پہنائی جو اس نے (حضرت عباس رضی ﷲ عنہ) کے ساتھ کیا تھا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment