Friday, December 10, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1265


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنازوں کا بیان
باب
کیا میت کو کسی عذر کی بناء پر قبر یا لحد سے نکالا جاسکتا ہے؟
حدیث نمبر
1265
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا حَضَرَ أُحُدٌ دَعَانِي أَبِي مِنْ اللَّيْلِ فَقَالَ مَا أُرَانِي إِلَّا مَقْتُولًا فِي أَوَّلِ مَنْ يُقْتَلُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنِّي لَا أَتْرُکُ بَعْدِي أَعَزَّ عَلَيَّ مِنْکَ غَيْرَ نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ عَلَيَّ دَيْنًا فَاقْضِ وَاسْتَوْصِ بِأَخَوَاتِکَ خَيْرًا فَأَصْبَحْنَا فَکَانَ أَوَّلَ قَتِيلٍ وَدُفِنَ مَعَهُ آخَرُ فِي قَبْرٍ ثُمَّ لَمْ تَطِبْ نَفْسِي أَنْ أَتْرُکَهُ مَعَ الْآخَرِ فَاسْتَخْرَجْتُهُ بَعْدَ سِتَّةِ أَشْهُرٍ فَإِذَا هُوَ کَيَوْمِ وَضَعْتُهُ هُنَيَّةً غَيْرَ أُذُنِهِ
مسدد، بشربن مفضل، حسین معلم، عطاء، جابر رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب احد کا زمانہ قریب آیا تو مجھے میرے والد نے رات کو بلایا اور کہا کہ میں اپنے آپ کو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے پہلے مقتول ہونے والا خیال کرتا ہوں اور میں اپنے بعد رسول ﷲ کی ذات کے سوا کوئی چیز ایسی نہیں چھوڑے جارہا ہوں جو تم سے مجھ کو عزیز ہے مجھ پر دین ہے اور اس کو اداء کردینا اور اپنی بہنوں سے اچھا سلوک کرنا، صبح کے وقت ہم نے دیکھا کہ سب سے پہلے مقتول وہی تھے اور ان کے ساتھ قبر میں ایک دوسرا شخص دفن کیا گیا اور میری طبیعت نے گوارا نہ کیا کہ میں ان کو دوسرے کے ساتھ چھوڑں- چھ مہینے کے بعد میں نے ان کو نکالا تو اس وقت وہ اسی طرح تھے جس طرح میں نے ان کو دفن کیا تھا سوائے کان کے کہ (کچھ متاثر ہوا تھا)



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment