کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
عمرہ قضاء کا بیان
حدیث نمبر
3932
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْبَرَائِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ فَأَبَی أَهْلُ مَکَّةَ أَنْ يَدَعُوهُ يَدْخُلُ مَکَّةَ حَتَّی قَاضَاهُمْ عَلَی أَنْ يُقِيمَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا کَتَبُوا الْکِتَابَ کَتَبُوا هَذَا مَا قَاضَی عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ قَالُوا لَا نُقِرُّ لَکَ بِهَذَا لَوْ نَعْلَمُ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّهِ مَا مَنَعْنَاکَ شَيْئًا وَلَکِنْ أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ أَنَا رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ امْحُ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ عَلِيٌّ لَا وَاللَّهِ لَا أَمْحُوکَ أَبَدًا فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْکِتَابَ وَلَيْسَ يُحْسِنُ يَکْتُبُ فَکَتَبَ هَذَا مَا قَاضَی عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ لَا يُدْخِلُ مَکَّةَ السِّلَاحَ إِلَّا السَّيْفَ فِي الْقِرَابِ وَأَنْ لَا يَخْرُجَ مِنْ أَهْلِهَا بِأَحَدٍ إِنْ أَرَادَ أَنْ يَتْبَعَهُ وَأَنْ لَا يَمْنَعَ مِنْ أَصْحَابِهِ أَحَدًا إِنْ أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ بِهَا فَلَمَّا دَخَلَهَا وَمَضَی الْأَجَلُ أَتَوْا عَلِيًّا فَقَالُوا قُلْ لِصَاحِبِکَ اخْرُجْ عَنَّا فَقَدْ مَضَی الْأَجَلُ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبِعَتْهُ ابْنَةُ حَمْزَةَ تُنَادِي يَا عَمِّ يَا عَمِّ فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ فَأَخَذَ بِيَدِهَا وَقَالَ لِفَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام دُونَکِ ابْنَةَ عَمِّکِ حَمَلَتْهَا فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ وَزَيْدٌ وَجَعْفَرٌ قَالَ عَلِيٌّ أَنَا أَخَذْتُهَا وَهِيَ بِنْتُ عَمِّي وَقَالَ جَعْفَرٌ ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا تَحْتِي وَقَالَ زَيْدٌ ابْنَةُ أَخِي فَقَضَی بِهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالَتِهَا وَقَالَ الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ وَقَالَ لِعَلِيٍّ أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْکَ وَقَالَ لِجَعْفَرٍ أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي وَقَالَ لِزَيْدٍ أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا وَقَالَ عَلِيٌّ أَلَا تَتَزَوَّجُ بِنْتَ حَمْزَةَ قَالَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ
عبیدﷲ بن موسی، اسرائیل، ابواسحق، براء رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے جب ذیقعدہ میں عمرہ کا ارادہ فرمایا تو اہل مکہ نے آپ کے مکہ میں داخل ہونے سے انکار کیا، یہاں تک کہ آپ نے ان سے اس شرط پر صلح کی کہ (آئندہ سال) مکہ میں تین دن مقیم رہیں گے، جب مسلمانوں نے صلح نامہ لکھا (تواس میں یہ) لکھ دیا کہ یہ محمد رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کا صلح نامہ ہے تو کفار نے کہا کہ ہم تو اسکا اقرار نہیں کرتے اگر ہم آپ کو ﷲ کا رسول سمجھتے تو آپ کو ہم بالکل نہ روکتے، لیکن آپ محمد بن عبدﷲ ہیں (یہی لکھئے) تو آپ نے فرمایا کہ ﷲ کا رسول بھی ہوں اور محمد بن عبدﷲ بھی، پھرآپ نے حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ لفظ رسول ﷲ مٹادو، حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا بخدا میں تو اسے کبھی نہیں مٹاسکتا، تو رسول ﷲ نے وہ صلح نامہ لے لیا، حالانکہ آپ لکھنا نہیں جانتے تھے پھر بھی آپ نے یہ لکھا، یہ محمد بن عبدﷲ کا صلح نامہ ہے کہ آپ مکہ میں سوائے غلاف پوش تلوار کے دوسرے ہتھیار لے کر نہ آئیں گے اور اہل مکہ میں اگرکوئی آپ کیساتھ جانا چاہے گا تو آپ اسے نہیں لے جائیں گے اور اگر آپ کے ساتھیوں میں سے کوئی مکہ میں رہنا چاہے گا تو آپ نہ روکیں گے (سال آئندہ) جب آپ مکہ تشریف لائے اور (تین دن کی) مدت پوری ہوگئی تو کفار نے حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس آکر کہا کہ آپ اپنے ساتھی (آنحضرت) سے کہہ دیجئے کہ تشریف لے جائیں کیونکہ مدت پوری ہوگئی، تو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم مکہ سے تشریف لے گئے، حضرت حمزہ کی صاحبزادی چچا چچا پکارتی ہوئی آپ کے پیچھے چلی تو انہیں حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے لے لیا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر حضرت فاطمہ سے کہا کہ اپنے چچا کی صاحبزادی کو لے لو، کہ میں نے اسے لے لیا ہے (مدینہ پہنچ کر) علی، زید اور جعفر نے جھگڑا کیا، حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں نے ہی (پہلے) اسے لیا ہے اور یہ میرے چچا کی صاحبزادی ہے جعفر نے کہا، یہ میرے چچا کی صاحبزادی ہے، اور اسکی خالہ میرے نکاح میں ہے زید نے کہا یہ میری بھتیجی ہے، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے (حضرت جعفر کے حق میں) اسکی خالہ کی وجہ سے فیصلہ فرمایا اور فرمایا کہ خالہ ماں کے درجہ میں ہوتی ہے اور حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے بطور تسلی فرمایا کہ تم مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں اور حضرت جعفر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے فرمایا تو میری صورت اور سیرت میں مشابہ ہے اور زید سے فرمایا تو ہمارا بھائی اور محبوب ہے، حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ حمزہ کی صاحبزادی سے نکاح کیوں نہیں کرلیتے؟ تو آپ نے فرمایا وہ میری رضاعی بھتیجی ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment