کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
زیدبن حارثہ کے غزوہ کا بیان
حدیث نمبر
3931
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ عَلَی قَوْمٍ فَطَعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَالَ إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ طَعَنْتُمْ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلِهِ وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ کَانَ خَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ وَإِنْ کَانَ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ
مسدد، یحیی بن سعید، سفیان بن سعید، عبدﷲ بن دینار، حضرت ابن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے قوم (مہاجروانصار) پر اسامہ (بن زید) کو (کسی جہاد میں) امیر بنایا لوگوں نے ان کے امیر ہونے پرطعن کیا تو آنحضرت نے فرمایا اگرآج تم اسامہ کی امیری پرطعن کر رہے ہو تو پہلے تم نے ان کے باپ کی امیری پر بھی طعن کیا تھا، قسم ہے خدا کی! وہ امیر ہونے کے مستحق اور اہل تھے اور وہ مجھے تمام لوگوں میں زیادہ محبوب تھے اور انکے بعد (یہ اسامہ) مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment