کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
جنگ خیبر کا بیان
حدیث نمبر
3921
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ حَدَّثَنِي ثَوْرٌ قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ مَوْلَی ابْنِ مُطِيعٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ افْتَتَحْنَا خَيْبَرَ وَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا وَلَا فِضَّةً إِنَّمَا غَنِمْنَا الْبَقَرَ وَالْإِبِلَ وَالْمَتَاعَ وَالْحَوَائِطَ ثُمَّ انْصَرَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی وَادِي الْقُرَی وَمَعَهُ عَبْدٌ لَهُ يُقَالُ لَهُ مِدْعَمٌ أَهْدَاهُ لَهُ أَحَدُ بَنِي الضِّبَابِ فَبَيْنَمَا هُوَ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَائَهُ سَهْمٌ عَائِرٌ حَتَّی أَصَابَ ذَلِکَ الْعَبْدَ فَقَالَ النَّاسُ هَنِيئًا لَهُ الشَّهَادَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي أَصَابَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ مِنْ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا فَجَائَ رَجُلٌ حِينَ سَمِعَ ذَلِکَ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِرَاکٍ أَوْ بِشِرَاکَيْنِ فَقَالَ هَذَا شَيْئٌ کُنْتُ أَصَبْتُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِرَاکٌ أَوْ شِرَاکَانِ مِنْ نَارٍ
عبدﷲ بن محمد، معاویہ بن عمرو، ابواسحاق، مالک بن انس، ثور ،ابن مطیع کے آزاد کردہ غلام سالم، حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے خیبر فتح کیا اور ہمیں مال غنیمت میں سونا چاندی نہیں ملا بلکہ گائے، اونٹ اسباب اور باغ ملے۔ پھر ہم رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ وادی القری میں آئے اور آپ کے ہمراہ مدعم نامی آپ کا غلام تھا جو بنو الضباب کے ایک آدمی نے آپ کو نذرانہ میں دیا تھا وہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کا کجاوہ اتار رہا تھا کہ اتنے میں ایک ایسا تیر جس کے مارنے والے کا پتہ نہ تھا اس طرف آیا اور اس غلام کے لگ گیا لوگوں نے کہا اس کو شہادت مبارک ہو آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں نہیں اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ میں میری جان ہے جو چادر اس نے خیبر کے دن مال غنیمت میں سے تقسیم ہونے سے پہلے لے لی تھی اس پر آگ کا شعلہ بنے گی، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے یہ بات سن کر ایک آدمی ایک یا دو تسمہ لے کر آیا اور کہنے لگا یہ چیز مجھے ملی تھی رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تسمے (بھی) آگ کے ہو جاتے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment