کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
جنگ خیبر کا بیان
حدیث نمبر
3904
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي کَثِيرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ يُبْنَی عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَی وَلِيمَتِهِ وَمَا کَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلَا لَحْمٍ وَمَا کَانَ فِيهَا إِلَّا أَنْ أَمَرَ بِلَالًا بِالْأَنْطَاعِ فَبُسِطَتْ فَأَلْقَی عَلَيْهَا التَّمْرَ وَالْأَقِطَ وَالسَّمْنَ فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ إِحْدَی أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ مَا مَلَکَتْ يَمِينُهُ قَالُوا إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ إِحْدَی أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِمَّا مَلَکَتْ يَمِينُهُ فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّأَ لَهَا خَلْفَهُ وَمَدَّ الْحِجَابَ
سعید بن ابومریم، محمد بن جعفر بن ابی کثیر، حمید، حضرت انس رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم مدینہ اور خیبر کے راستہ میں تین دن فروکش رہے جہاں آپ نے حضرت صفیہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے خلوت فرمائی چناچہ میں نے آپ کے ولیمہ میں مسلمانوں کو بلایا اور اس ولیمہ میں نہ روٹی تھی نہ گوشت اس میں صرف یہ ہوا تھا آپ نے (حضرت) بلال کو دسترخوان بچھانے کا حکم دیا چناچہ وہ بچھا دیئے گئے تو آپ نے اس پر (چھوہارے) پنیر اور گھی رکھ دیا تو مسلمان آپس میں کہنے لگے کہ صفیہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ امہات المومنین میں سے ہیں یا آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کی کنیز ہیں؟ تو لوگوں نے کہا کہ اگر آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم ان کا پردہ کرائیں گے تو امہات المومنین میں سے ہوں گی اور اگر پردہ نہ کرایا تو پھر کنیز ہیں جب آپ نے کوچ کیا تو ان کے لئے اپنے پیچھے بیٹھنے کی جگہ بنائی اور پردہ کھینچ دیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment