کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
جنگ خیبر کا بیان
حدیث نمبر
3926
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَی أَبِي بَکْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَائَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ وَفَدَکٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْکُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي کَانَ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبَی أَبُو بَکْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَی فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَی أَبِي بَکْرٍ فِي ذَلِکَ فَهَجَرَتْهُ فَلَمْ تُکَلِّمْهُ حَتَّی تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلًا وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَکْرٍ وَصَلَّی عَلَيْهَا وَکَانَ لِعَلِيٍّ مِنْ النَّاسِ وَجْهٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ اسْتَنْکَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ النَّاسِ فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَکْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ وَلَمْ يَکُنْ يُبَايِعُ تِلْکَ الْأَشْهُرَ فَأَرْسَلَ إِلَی أَبِي بَکْرٍ أَنْ ائْتِنَا وَلَا يَأْتِنَا أَحَدٌ مَعَکَ کَرَاهِيَةً لِمَحْضَرِ عُمَرَ فَقَالَ عُمَرُ لَا وَاللَّهِ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهِمْ وَحْدَکَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ وَمَا عَسَيْتَهُمْ أَنْ يَفْعَلُوا بِي وَاللَّهِ لآتِيَنَّهُمْ فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ أَبُو بَکْرٍ فَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ فَقَالَ إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا فَضْلَکَ وَمَا أَعْطَاکَ اللَّهُ وَلَمْ نَنْفَسْ عَلَيْکَ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْکَ وَلَکِنَّکَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالْأَمْرِ وَکُنَّا نَرَی لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصِيبًا حَتَّی فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَکْرٍ فَلَمَّا تَکَلَّمَ أَبُو بَکْرٍ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَکُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَمْوَالِ فَلَمْ آلُ فِيهَا عَنْ الْخَيْرِ وَلَمْ أَتْرُکْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلَّا صَنَعْتُهُ فَقَالَ عَلِيٌّ لِأَبِي بَکْرٍ مَوْعِدُکَ الْعَشِيَّةَ لِلْبَيْعَةِ فَلَمَّا صَلَّی أَبُو بَکْرٍ الظُّهْرَ رَقِيَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَتَشَهَّدَ وَذَکَرَ شَأْنَ عَلِيٍّ وَتَخَلُّفَهُ عَنْ الْبَيْعَةِ وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِلَيْهِ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَکْرٍ وَحَدَّثَ أَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَی الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةً عَلَی أَبِي بَکْرٍ وَلَا إِنْکَارًا لِلَّذِي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهِ وَلَکِنَّا نَرَی لَنَا فِي هَذَا الْأَمْرِ نَصِيبًا فَاسْتَبَدَّ عَلَيْنَا فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا فَسُرَّ بِذَلِکَ الْمُسْلِمُونَ وَقَالُوا أَصَبْتَ وَکَانَ الْمُسْلِمُونَ إِلَی عَلِيٍّ قَرِيبًا حِينَ رَاجَعَ الْأَمْرَ الْمَعْرُوفَ
یحییٰ بن بکیر، لیث، عقیل، ابن شہاب، عروہ، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ دختر نبی حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا نے (کسی کو) حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس ان کے زمانہ خلافت میں بھیجا کہ ہم رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے اس مال کی جو ﷲ تعالیٰ نے آپ کو مدینہ اور فدک میں دیا تھا اور خیبر کے بقیہ خمس کی میراث چاہتے ہیں تو ابوبکر نے جواب دیاکہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ہمارے مال کا کوئی وارث نہیں، جو کچھ ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے ہاں آل محمد صلی ﷲ علیہ وسلم اس میں سے (بقدر ضرورت) کھا سکتی ہے اور میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے صدقہ میں آپ کے عہد مبارک کے عمل کے خلاف بالکل تبدیلی نہیں کر سکتا اور میں اس میں اسی طرح عمل در آمد کروں گا جس طرح رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کیا کرتے تھے یعنی حضرت ابوبکر نے اس میں ذرا سی بھی حضرت فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے حوالے کرنے سے انکار کردیا تو حضرت فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا اس مسئلہ میں حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے ناراض ہو گئیں اور انہوں نے اپنی وفات تک حضرت ابوبکر سے گفتگو نہ کی حضرت فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کی وفات کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں جب ان کا انتقال ہوگیا تو ان کے شوہر حضرت علی نے انہیں رات ہی کو دفن کردیا اور حضرت ابوبکر کو اس کی اطلاع بھی نہ دی، اور خود ہی ان کے جنازہ کی نماز پڑھ لی حضرت فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کی حیات میں حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو لوگوں میں وجاہت حاصل تھی جب ان کی وفات ہو گئی تو حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے لوگوں کا رخ پھرا ہوا پایا تو ابوبکر سے صلح اور بیعت کی درخواست کی حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے ان سے (چھ) مہینوں میں (حضرت فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کی تیمارداری اور دیگر مشاغل و اسباب کی بناء پر) حضرت ابوبکر سے بیعت نہیں کی تھی تو حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابوبکر کے پاس پیغام بھیجا کہ آپ ہمارے یہاں تشریف لائیں اور آپ کے ساتھ کوئی دوسرا نہ ہو یہ اس لئے کہا کہ کہیں عمر نہ آجائیں حضرت عمر کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے فرمایا بخدا! آپ وہاں تنہا نہ جائیں حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا مجھے ان سے یہ امید نہیں کہ وہ میرے ساتھ کچھ برائی کریں بخدا! میں ان کے پاس جاؤں گا لہذا ابوبکر ان کے پاس چلے گئے تو حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے تشہد کے بعد فرمایا کہ ہم آپ کی فضیلت اور ﷲ کے عطا کردہ انعامات کو بخوبی جانتے ہیں نیز ہمیں اس بھلائی میں (یعنی خلافت میں) جو ﷲ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی ہے کوئی حسد نہیں لیکن آپ نے اس امر خلافت میں ہم پر زیادتی کی ہے حالانکہ قرابت رسول کی بناء پر ہم سمجھتے تھے کہ یہ خلافت ہمارا حصہ ہے حضرت ابوبکر یہ سن کر رونے لگے اور فرمایا قسم ہے خدا کی! قرابت رسول کی رعایت میری نظر میں اپنی قرابت کی رعایت سے زیادہ پسندیدہ ہے اور میرے اور تمہارے درمیان آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کے بارے میں جو اختلاف ہوا ہے تو میں نے اس میں ہرگز امر خیر سے کوتاہی نہیں کی اور اس مال میں میں نے جو کام آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا اسے نہیں چھوڑا حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ زوال کے بعد آپ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے بعیت کرنے کا وعدہ ہے جب حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے ظہر کی نماز پڑھ لی تو آپ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ منبر پر بیٹھے اور تشہد کے بعد حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کا حال، بیعت سے ان کے پیچھے رہنے اور انہوں نے جو عذر پیش کئے تھے انہیں بیان فرمایا، پھر حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے استغفار و تشہد کے بعد حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے حقوق کی عظمت و بزرگی بیان کرکے فرمایا کہ میرے اس فعل کا باعث حضرت ابوبکر پر حسد اور ﷲ نے انہیں جس خلافت سے نوازا ہے اس کا انکار نہیں تھا لیکن ہم سمجھتے تھے کہ امر خلافت میں ہمارا بھی حصہ تھا لیکن حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اس میں ہمیں چھوڑ کر خود مختار بن گئے تو اس سے ہمارے دل میں کچھ تکدر تھا، تمام مسلمان اس سے خوش ہو گئے اور کہا کہ آپ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے درست کام کیا اور مسلمان حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے اس وقت پھر ساتھی ہو گئے جب انہوں نے امر بالمعروف کی طرف رجوع کر لیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment