Saturday, May 7, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1349,TotalNo:3885


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
قصہ قبائل عکل و عرینہ۔
حدیث نمبر
3885
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ نَاسًا مِنْ عُکْلٍ وَعُرَيْنَةَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَکَلَّمُوا بِالْإِسْلَامِ فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا کُنَّا أَهْلَ ضَرْعٍ وَلَمْ نَکُنْ أَهْلَ رِيفٍ وَاسْتَوْخَمُوا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَرَاعٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فِيهِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا فَانْطَلَقُوا حَتَّی إِذَا کَانُوا نَاحِيَةَ الْحَرَّةِ کَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ وَقَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ فَأَمَرَ بِهِمْ فَسَمَرُوا أَعْيُنَهُمْ وَقَطَعُوا أَيْدِيَهُمْ وَتُرِکُوا فِي نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ حَتَّی مَاتُوا عَلَی حَالِهِمْ قَالَ قَتَادَةُ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِکَ کَانَ يَحُثُّ عَلَی الصَّدَقَةِ وَيَنْهَی عَنْ الْمُثْلَةِ وَقَالَ شُعْبَةُ وَأَبَانُ وَحَمَّادٌ عَنْ قَتَادَةَ مِنْ عُرَيْنَةَ وَقَالَ يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ وَأَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَدِمَ نَفَرٌ مِنْ عُکْلٍ
عبدالاعلےٰ بن حماد، یزید بن زریع، سعید، قتادہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا مجھ سے حضرت انس بن مالک رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ عکل و عرینہ کے کچھ لوگ رسول اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بمقام مدینہ طیبہ حاضر ہوئے اور کلمہ اسلام پڑھنے کے بعد عرض کیا کہ یا رسول ﷲ! ہم دو دھیل جانور والے تھے، یعنی دودھ والے جانور رکھتے تھے اور کھیتی نہیں کرتے تھے ہم کو مدینہ کی ہوا نا موافق ہے رسول اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے چند اونٹ اور ایک چرواہا دے کر فرمایا تم ان کو ساتھ لے کر جنگل میں چلے جاؤ اور ان کا دودھ وغیرہ استعمال کرو وہ گئے مگر حرہ میں پہنچ کر اسلام سے منکر ہو گئے اور آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے چرواہے (یسار) کو قتل کر ڈالا اور اونٹ لے کر بھاگ کھڑے ہوئے رسول اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو جب معلوم ہوا تو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ان کے پکڑنے کے لئے آدمی بھیجے چناچہ پکڑ کر لائے گئے آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری جائیں، ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں اور حرہ کے ایک گوشہ میں ڈال دیئے جائیں آخر وہ اسی حال میں مر گئے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ ہم کو یہ بات بھی پہنچی ہے کہ اس کے بعد ہر وقت رسول اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو خیرات کرنے کی ترغیب دیتے تھے اور مثلہ کرنے سے منع فرماتے تھے شعبہ، ابان اور حماد نے قتادہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے صرف عرینہ کا لفظ روایت کیا ہے اور یحییٰ بن ابی کثیر، ایوب، ابوقلابہ نے حضرت انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے اس طرح روایت کی ہے کہ عکل کے کچھ لوگ آنحضرت کی خدمت میں آئے تھے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment