کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
جنگ حدیبیہ کا قصہ
حدیث نمبر
3875
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ حِينَ حَدَّثَ هَذَا الْحَدِيثَ حَفِظْتُ بَعْضَهُ وَثَبَّتَنِي مَعْمَرٌ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَی صَاحِبِهِ قَالَا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا أَتَی ذَا الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَهُ وَأَحْرَمَ مِنْهَا بِعُمْرَةٍ وَبَعَثَ عَيْنًا لَهُ مِنْ خُزَاعَةَ وَسَارَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی کَانَ بِغَدِيرِ الْأَشْطَاطِ أَتَاهُ عَيْنُهُ قَالَ إِنَّ قُرَيْشًا جَمَعُوا لَکَ جُمُوعًا وَقَدْ جَمَعُوا لَکَ الْأَحَابِيشَ وَهُمْ مُقَاتِلُوکَ وَصَادُّوکَ عَنْ الْبَيْتِ وَمَانِعُوکَ فَقَالَ أَشِيرُوا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيَّ أَتَرَوْنَ أَنْ أَمِيلَ إِلَی عِيَالِهِمْ وَذَرَارِيِّ هَؤُلَائِ الَّذِينَ يُرِيدُونَ أَنْ يَصُدُّونَا عَنْ الْبَيْتِ فَإِنْ يَأْتُونَا کَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَطَعَ عَيْنًا مِنْ الْمُشْرِکِينَ وَإِلَّا تَرَکْنَاهُمْ مَحْرُوبِينَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَرَجْتَ عَامِدًا لِهَذَا الْبَيْتِ لَا تُرِيدُ قَتْلَ أَحَدٍ وَلَا حَرْبَ أَحَدٍ فَتَوَجَّهْ لَهُ فَمَنْ صَدَّنَا عَنْهُ قَاتَلْنَاهُ قَالَ امْضُوا عَلَی اسْمِ اللَّهِ
عبدﷲ بن محمد، سفیان بن عیینہ، زہری سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے زہری سے سنا جب کہ وہ اوپر والی حدیث بیان کر رہے تھے چناچہ کچھ میں نے یاد رکھی اور کچھ معمر نے مجھے یاد دلا دی وہ عروہ بن زبیر سے اور وہ مسور اور مروان سے روایت کرتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے سے زیادہ بیان کرتا ہے انہوں نے کہا کہ حدیبیہ کے لئے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم دس سو سے کئی سو زائد اصحاب رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ ذی الحلیفہ میں پہنچے تو قربانی کے جانور کے گلے میں ہار پہنایا اور اس کا کوہان چیرا اور پھر اسی جگہ سے عمرہ کا احرام باندھا اور پھر بنی خزاعہ کے ایک جاسوس کو آپ نے آگے روانہ کیا اور آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم بھی برابر چلتے رہے یہاں تک کہ جب مقام غدیر الاشطاط میں پہنچے تو جاسوس نے حاضر خدمت ہوکر عرض کیا کہ قریش نے بہت سے قبائل اور جماعتوں کو آپ سے لڑنے کے لئے اکٹھا کیا ہے وہ آپ کو بیت ﷲ تک نہیں جانے دیں گے آپ نے مسلمانوں سے فرمایا لوگو! مجھے اس معاملہ میں بتاؤ کہ کیا کرنا چاہئے کیا میں کافروں کے اہل و عیال پر جھک پڑوں اور ان کو تباہ کردوں جو ہم کو کعبہ سے روکنے کی تدبیریں کر رہے ہیں اور اگر وہ مقابلہ کے لئے آئے تو ﷲ تعالیٰ مدد گار ہے اسی نے ہمارے جاسوس کو ان کے ہاتھ سے بچایا ہے اگر وہ نہ آئے تو ہم ان کو سوئے ہوئے یا مفرور کی طرح چھوڑیں گے اس موقعہ پر حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ہم تو صرف ﷲ کے گھر کا ارادہ کرکے حاضر ہوئے ہیں کسی سے لڑنا اور مارنا یا اسے لوٹنا ہماری غرض نہیں ہے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے چلیں اگر کوئی ہم کو روکے گا تو ہم اس سے جنگ کریں گے آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اٹھو خدا کا نام لے کر چلو-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment