Sunday, May 1, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1088,TotalNo:3624


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا بیان
حدیث نمبر
3624
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عُبَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ إِنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَائَ وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ فَاخْتَارَ مَا عِنْدَهُ فَبَکَی أَبُو بَکْرٍ وَقَالَ فَدَيْنَاکَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا فَعَجِبْنَا لَهُ وَقَالَ النَّاسُ انْظُرُوا إِلَی هَذَا الشَّيْخِ يُخْبِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَبْدٍ خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ وَهُوَ يَقُولُ فَدَيْنَاکَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا فَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الْمُخَيَّرَ وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ هُوَ أَعْلَمَنَا بِهِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَمَنِّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبَا بَکْرٍ وَلَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا مِنْ أُمَّتِي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَکْرٍ إِلَّا خُلَّةَ الْإِسْلَامِ لَا يَبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ خَوْخَةٌ إِلَّا خَوْخَةُ أَبِي بَکْرٍ
اسماعیل بن عبد ﷲ مالک عمر بن عبید ﷲ کے آزاد کردہ غلام ابوالنصر عبید بن حنین حضرت ابوسعید خدری رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم مرض وفات میں منبر پر تشریف فرما ہوئے اور آپ نے فرمایا کہ ﷲ تعالیٰ نے اپنے ایک بندہ کو اختیار دیا کہ وہ دنیا اور اس کی تروتازگی کو اختیار کر لے یا ﷲ کے پاس جو نعمتیں ہیں انہیں اختیار کرلے تو اس بندہ نے ﷲ کے پاس والی نعمتوں کو اختیارکر لیا (یہ سن کر) ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ رو پڑے اور عرض کیا یا رسول ﷲ! ہم آپ پر اپنے مان باپ کو قربان کرتے ہیں (راوی کہتا ہے) کہ ہمیں حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ پر تعجب ہوا اور لوگوں نے کہا اس بڈھے کو تو دیکھو کہ رسول اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم تو ایک بندہ کا حال بیان فرما رہے ہیں کہ ﷲ نے اس کو دنیا کی تروتازگی اور اپنے پاس کے انعامات کے درمیان اختیار دیا اور یہ بڈھا کہہ رہا ہے کہ ہم اپنے ماں باپ کو آپ پر فدا کرتے ہیں اور رو رہا ہے لیکن چند روز کے بعد جب آپ کا وصال ہوگیا تو ہم یہ راز سمجھ گئے کہ حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کیوں روئے تھے حقیقت یہ ہے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو ہی اختیار دیا گیا تھا گویا آپ کی وفات کی طرف اشارہ تھا جسے ابوبکر سمجھ گئے تھے اور حضرت ابوبکر ہم میں سب سے بڑے عالم تھے اور آپ نے فرمایا کہ اپنی رفاقت اور مال کے اعتبار سے مجھ پر سب سے زیادہ احسان ابوبکر کا ہے اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل (دوست حقیقی) بناتا تو ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو بناتا لیکن اسلامی دوستی (کافی) ہے (دیکھو) مسجد میں سوائے ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے دریچہ کے اور کوئی دریچہ (کھلا ہوا) باقی نہ رہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment