Sunday, May 1, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1110,TotalNo:3646


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی مدینہ میں تشریف آوری کا بیان۔
حدیث نمبر
3646
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ أُمَّ الْعَلَائِ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِمْ بَايَعَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ طَارَ لَهُمْ فِي السُّکْنَی حِينَ اقْتَرَعَتْ الْأَنْصَارُ عَلَی سُکْنَی الْمُهَاجِرِينَ قَالَتْ أُمُّ الْعَلَائِ فَاشْتَکَی عُثْمَانُ عِنْدَنَا فَمَرَّضْتُهُ حَتَّی تُوُفِّيَ وَجَعَلْنَاهُ فِي أَثْوَابِهِ فَدَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْکَ أَبَا السَّائِبِ شَهَادَتِي عَلَيْکَ لَقَدْ أَکْرَمَکَ اللَّهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يُدْرِيکِ أَنَّ اللَّهَ أَکْرَمَهُ قَالَتْ قُلْتُ لَا أَدْرِي بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَنْ قَالَ أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَائَهُ وَاللَّهِ الْيَقِينُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ وَمَا أَدْرِي وَاللَّهِ وَأَنَا رَسُولُ اللَّه مَا يُفْعَلُ بِي قَالَتْ فَوَاللَّهِ لَا أُزَکِّي أَحَدًا بَعْدَهُ قَالَتْ فَأَحْزَنَنِي ذَلِکَ فَنِمْتُ فَرِيتُ لِعُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ عَيْنًا تَجْرِي فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ذَلِکِ عَمَلُهُ
موسیٰ بن اسماعیل ابراہیم بن سعد ابن شہاب خارجہ بن زید بن ثابت رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ام علاء نے جوان عورتوں میں سے ہیں جنہوں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی فرمایا کہ جب انصار نے مہاجرین کی سکونت کے سلسلہ میں قرعہ اندازی کی تو حضرت عثمان بن مظعون ان کے حصہ میں آئے وہ کہتی ہیں کہ پھر عثمان ہمارے یہاں بیمار ہو گئے تو میں نے ان کی بیماری میں دیکھ بھال کی حتیٰ کہ ان کا انتقال ہوگیا ہم نے انہیں ان کے کپڑوں میں چھوڑ دیا پھر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے تو میں نے عثمان کی طرف مخاطب ہوکر کہا کہ اے ابوسائب تم پر ﷲ تعالیٰ کی رحمت ہو میں شہادت دیتی ہوں کہ یقینا ﷲ نے تمہیں نوازا ہے تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیسے معلوم ہوا ہے کہ ﷲ تعالیٰ نے انہیں نوازا ہے؟ میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں میں نہیں جانتی لیکن اگر ان پر نوازشیں نہ ہوں تو کون ہے (جس پر نوازشیں ہوں) آپ نے فرمایا دیکھو! عثمان کا تو بخدا انتقال ہوگیا اور میں ان کے بارے اچھی امیدیں رکھتا ہوں اور بخدا حالانکہ میں ﷲ کا رسول ہوں مجھے یہ معلوم نہیں کہ میرے ساتھ (ﷲ کے یہاں) کیا معاملہ ہوگا وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا آج کے بعد میں کسی کی تقدیس نہیں کروں گی وہ کہتی ہیں کہ مجھے اس بات سے کافی رنج ہوا پھر میں سو گئی تو مجھے خواب میں عثمان بن مظعون کی ایک نہر آئی جو بہہ رہی تھی میں نے آپ کو آکر بتایا تو آپ نے فرمایا کہ یہ ان کا عمل (نیک) ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment