Sunday, May 1, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1278,TotalNo:3814


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
جنگ خندق کا بیان
حدیث نمبر
3814
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ عِکْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی حَفْصَةَ وَنَسْوَاتُهَا تَنْطُفُ قُلْتُ قَدْ کَانَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ مَا تَرَيْنَ فَلَمْ يُجْعَلْ لِي مِنْ الْأَمْرِ شَيْئٌ فَقَالَتْ الْحَقْ فَإِنَّهُمْ يَنْتَظِرُونَکَ وَأَخْشَی أَنْ يَکُونَ فِي احْتِبَاسِکَ عَنْهُمْ فُرْقَةٌ فَلَمْ تَدَعْهُ حَتَّی ذَهَبَ فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ خَطَبَ مُعَاوِيَةُ قَالَ مَنْ کَانَ يُرِيدُ أَنْ يَتَکَلَّمَ فِي هَذَا الْأَمْرِ فَلْيُطْلِعْ لَنَا قَرْنَهُ فَلَنَحْنُ أَحَقُّ بِهِ مِنْهُ وَمِنْ أَبِيهِ قَالَ حَبِيبُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَهَلَّا أَجَبْتَهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَحَلَلْتُ حُبْوَتِي وَهَمَمْتُ أَنْ أَقُولَ أَحَقُّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْکَ مَنْ قَاتَلَکَ وَأَبَاکَ عَلَی الْإِسْلَامِ فَخَشِيتُ أَنْ أَقُولَ کَلِمَةً تُفَرِّقُ بَيْنَ الْجَمْعِ وَتَسْفِکُ الدَّمَ وَيُحْمَلُ عَنِّي غَيْرُ ذَلِکَ فَذَکَرْتُ مَا أَعَدَّ اللَّهُ فِي الْجِنَانِ قَالَ حَبِيبٌ حُفِظْتَ وَعُصِمْتَ قَالَ مَحْمُودٌ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَنَوْسَاتُهَا
ابراہیم بن موسیٰ، ہشام، معمر، زہری، سالم بن عبدﷲ بن دینار، حضرت ابن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں ام المومنین حضرت حفصہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے پاس گیا تو ان کے بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا میں نے کہا تم دیکھتی ہو کہ لوگوں نے یہ کیا کیا ہے؟ مجھے تو حکومت سے کوئی چیز نہیں ملی وہ فرمانے لگیں- تم جاؤ لوگوں سے ملاقات کرو وہ تمہارا انتظار کر رہے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ تم جاؤ اور ان میں اختلاف پیدا ہوجائے، غرض ام المومنین رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے کہنے سے وہ چلے گئے آخر میں امیر معاویہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے خطبہ پڑھا اور کہا اگر کوئی خلافت کے معاملہ میں کچھ کہنا چاہتا ہے تو سامنے آئے- ہم اس سے اور اس کے باپ سے زیادہ مستحق ہیں، حبیب بن مسلمہ نے کہا کہ آپ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے امیر معاویہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو جواب کیوں نہیں دیا ابن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں چاہتا تھا کہ معاویہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے جواب میں کہوں کہ اس معاملہ میں تم سے اور تمہارے باپ سے زیادہ مستحق وہ ہے جو اسلام کی خاطر تم سے جنگ کر چکا ہو مگر میں خون ریزی کے خوف سے خاموش ہوکر جنت کے ثواب پر قناعت کر گیا حبیب نے کہا آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے خود کو فساد سے بچا لیا اس حدیث کو محمودد بن غیلان نے بھی عبدالرزاق سے روایت کیا ہے اس میں نسوانھا کی جگہ نوسا تھا ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment