کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
جنگ خیبر کا بیان
حدیث نمبر
3896
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ أَوْ قَالَ لَمَّا تَوَجَّهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْرَفَ النَّاسُ عَلَی وَادٍ فَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّکْبِيرِ اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْبَعُوا عَلَی أَنْفُسِکُمْ إِنَّکُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا إِنَّکُمْ تَدْعُونَ سَمِيعًا قَرِيبًا وَهُوَ مَعَکُمْ وَأَنَا خَلْفَ دَابَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَنِي وَأَنَا أَقُولُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَقَالَ لِي يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ قُلْتُ لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَلَا أَدُلُّکَ عَلَی کَلِمَةٍ مِنْ کَنْزٍ مِنْ کُنُوزِ الْجَنَّةِ قُلْتُ بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ فَدَاکَ أَبِي وَأُمِّي قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
موس بن اسماعیل، عبدلواحد، عاصم، ابوعثمان، حضرت موسیٰ اشعری رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ جب آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے خیبر پر چڑھائی کی یا یہ فرمایا کہ جب آپ خیبر کی طرف چلے تو لوگ ایک وادی پر پہنچ کر بلند آواز سے تکبیر پڑھنے لگے کہ اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے آپ پر نرمی کرو (یعنی زور سے نہ چیخو) کیونکہ تم کسی بہرے یا غیر موجود ذات کو نہیں پکار رہے ہو بلکہ تم سننے والے کو جو قریب بھی ہے پکار رہے ہو اور وہ تمہارے ساتھ ساتھ ہے ابوموسیٰ کہتے ہیں میں آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے تھا آپ نے مجھے ل لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ کہتے ہوئے سنا تو آپ نے فرمایا اے عبدﷲ بن قیس! میں نے عرض کیا لبیک یا رسول ﷲ! آپ نے فرمایا کیا میں تمہیں ایک ایسا کلمہ نہ بتاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ضرور بتائیے آپ نے فرمایا (وہ) ل لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ (ہے)
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment