کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا بیان
حدیث نمبر
3630
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقْبَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْمَدِينَةِ وَهُوَ مُرْدِفٌ أَبَا بَکْرٍ وَأَبُو بَکْرٍ شَيْخٌ يُعْرَفُ وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَابٌّ لَا يُعْرَفُ قَالَ فَيَلْقَی الرَّجُلُ أَبَا بَکْرٍ فَيَقُولُ يَا أَبَا بَکْرٍ مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْکَ فَيَقُولُ هَذَا الرَّجُلُ يَهْدِينِي السَّبِيلَ قَالَ فَيَحْسِبُ الْحَاسِبُ أَنَّهُ إِنَّمَا يَعْنِي الطَّرِيقَ وَإِنَّمَا يَعْنِي سَبِيلَ الْخَيْرِ فَالْتَفَتَ أَبُو بَکْرٍ فَإِذَا هُوَ بِفَارِسٍ قَدْ لَحِقَهُمْ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا فَارِسٌ قَدْ لَحِقَ بِنَا فَالْتَفَتَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اللَّهُمَّ اصْرَعْهُ فَصَرَعَهُ الْفَرَسُ ثُمَّ قَامَتْ تُحَمْحِمُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مُرْنِي بِمَا شِئْتَ قَالَ فَقِفْ مَکَانَکَ لَا تَتْرُکَنَّ أَحَدًا يَلْحَقُ بِنَا قَالَ فَکَانَ أَوَّلَ النَّهَارِ جَاهِدًا عَلَی نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَ آخِرَ النَّهَارِ مَسْلَحَةً لَهُ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَانِبَ الْحَرَّةِ ثُمَّ بَعَثَ إِلَی الْأَنْصَارِ فَجَائُوا إِلَی نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ فَسَلَّمُوا عَلَيْهِمَا وَقَالُوا ارْکَبَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ فَرَکِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ وَحَفُّوا دُونَهُمَا بِالسِّلَاحِ فَقِيلَ فِي الْمَدِينَةِ جَائَ نَبِيُّ اللَّهِ جَائَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشْرَفُوا يَنْظُرُونَ وَيَقُولُونَ جَائَ نَبِيُّ اللَّهِ جَائَ نَبِيُّ اللَّهِ فَأَقْبَلَ يَسِيرُ حَتَّی نَزَلَ جَانِبَ دَارِ أَبِي أَيُّوبَ فَإِنَّهُ لَيُحَدِّثُ أَهْلَهُ إِذْ سَمِعَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ وَهُوَ فِي نَخْلٍ لِأَهْلِهِ يَخْتَرِفُ لَهُمْ فَعَجِلَ أَنْ يَضَعَ الَّذِي يَخْتَرِفُ لَهُمْ فِيهَا فَجَائَ وَهِيَ مَعَهُ فَسَمِعَ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی أَهْلِهِ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ بُيُوتِ أَهْلِنَا أَقْرَبُ فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ أَنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذِهِ دَارِي وَهَذَا بَابِي قَالَ فَانْطَلِقْ فَهَيِّئْ لَنَا مَقِيلًا قَالَ قُومَا عَلَی بَرَکَةِ اللَّهِ فَلَمَّا جَائَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَائَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّکَ جِئْتَ بِحَقٍّ وَقَدْ عَلِمَتْ يَهُودُ أَنِّي سَيِّدُهُمْ وَابْنُ سَيِّدِهِمْ وَأَعْلَمُهُمْ وَابْنُ أَعْلَمِهِمْ فَادْعُهُمْ فَاسْأَلْهُمْ عَنِّي قَبْلَ أَنْ يَعْلَمُوا أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ فَإِنَّهُمْ إِنْ يَعْلَمُوا أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ قَالُوا فِيَّ مَا لَيْسَ فِيَّ فَأَرْسَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلُوا فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ وَيْلَکُمْ اتَّقُوا اللَّهَ فَوَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنَّکُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا وَأَنِّي جِئْتُکُمْ بِحَقٍّ فَأَسْلِمُوا قَالُوا مَا نَعْلَمُهُ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَهَا ثَلَاثَ مِرَارٍ قَالَ فَأَيُّ رَجُلٍ فِيکُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ قَالُوا ذَاکَ سَيِّدُنَا وَابْنُ سَيِّدِنَا وَأَعْلَمُنَا وَابْنُ أَعْلَمِنَا قَالَ أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ قَالُوا حَاشَی لِلَّهِ مَا کَانَ لِيُسْلِمَ قَالَ أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ قَالُوا حَاشَی لِلَّهِ مَا کَانَ لِيُسْلِمَ قَالَ أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ قَالُوا حَاشَی لِلَّهِ مَا کَانَ لِيُسْلِمَ قَالَ يَا ابْنَ سَلَامٍ اخْرُجْ عَلَيْهِمْ فَخَرَجَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ اتَّقُوا اللَّهَ فَوَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنَّکُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّهُ جَائَ بِحَقٍّ فَقَالُوا کَذَبْتَ فَأَخْرَجَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد عبدالصمد ان کے والد عبدالعزیز بن صہیب انس بن مالک رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اور آپ کے پیچھے (اپنی سواری پر) ابوبکر تھے ابوبکرچونکہ تجارت وغیرہ کے سلسلہ میں رہتے تھے اس لئے وہ مثل اس بوڑھے آدمی کے تھے جسے لوگ جانتے پہچانتے (ہوں) اور نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کا معاملہ چونکہ باہر کے لوگوں سے نہ پڑا تھا اس لئے وہ مثل اس جوان کے تھے جسے لوگ نہ پہچانتے ہوں لہذا راستہ میں جب بھی کوئی آدمی ابوبکر کو ملتا تو وہ ان سے پوچھتا اے ابوبکر تمہارے سامنے یہ کون شخص ہے؟ تو ابوبکر جواب دیتے کہ یہ مجھے راستہ بتانے والا ہے تو سمجھنے والا اس سے معروف راستہ سمجھتا حالانکہ ابوبکر کی مراد نیکی کا راستہ تھی پھر ابوبکر نے ایک جگہ پیچھے مڑ کردیکھا کہ ایک سوار ان تک پہنچنا چاہتا ہے فورا ابوبکر نے کہا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم یہ سوار ہم تک پہنچنا چاہتا ہے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے پھر کردیکھا تو فرمایا اے ﷲ اسے گرا دے چناچہ وہ گھوڑے سے گر پڑا پھر وہ گھوڑا کھڑا ہوکر آواز نکالنے لگا اس سوار نے کہا یا رسول ﷲ! آپ جس بات کا چاہیں مجھے حکم دیجئے آپ نے فرمایا کہ تم اسی جگہ کھڑے رہو اور کسی کو ہم تک نہ پہنچنے دو انس کہتے ہیں خدا کی قدرت ہے کہ صبح کو وہ شخص آپ کا دشمن تھا اور شام کو آپ کا دوست بن گیا پھر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم (مقام حرہ) میں اترے اور آپ نے انصار کو بلوا بھیجا تو وہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ان دونوں حضرات کو انہوں نے سلام کیا اور ان سے عرض کیا نہایت اطمینان کے ساتھ سوار ہوکر چلئے ہم آپ کے مطیع ہیں تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر سوار ہو گئے اور تمام انصار نے انہیں ہتھیاروں سے گھیر لیا (اس وقت) مدینہ میں ایک شور مچ گیا کہ ﷲ کے رسول آ گئے ﷲ کے رسول آ گئے لوگ بلندیوں پر چڑھ چڑھ کردیکھتے تھے اور کہتے تھے ﷲ کے رسول آ گئے ﷲ کے رسول آ گئے آپ برابر چلتے رہے یہاں تک کہ ابوایوب انصاری کے مکان کے قریب اترے آپ ان کے گھر والوں سے باتیں کر رہے تھے کہ حضرت عبد ﷲ بن سلام نے آپ کی تشریف آوری کی خبر سنی اور وہ اس وقت اپنے گھر والوں کے باغ میں کھجوریں توڑ رہے تھے (یہ خبر سنتے ہی) وہ توڑی ہوئی کھجوریں جلدی سے رکھ کر اپنے ساتھ لئے ہوئے آ گئے اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی باتیں سن کر پھر اپنے گھر چلے گئے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارے لوگوں میں سے کس کا گھر یہاں سے قریب ہے؟ ابوایوب نے عرض کیا میں ہوں یا رسول ﷲ! یہ میرا گھر ہے اور یہ اس کا دروازہ ہے آپ نے فرمایا تو جاؤ اور ہمارے آرام کرنے کا سامان کرو انہوں نے عرض کیا ﷲ تعالیٰ کی برکت ہے آپ دونوں صاحبان تشریف لے چلئے پھر جب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو حضرت عبد ﷲ بن سلام آئے اور کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷲ تعالیٰ کے رسول ہیں اور آپ سچا مذہب لے کر آئے ہیں یہودی جانتے ہیں کہ میں ان کا سردار اور سردار کا بیٹا ہوں ان کا بڑا عالم اور بڑے عالم کا بیٹا ہوں آپ انہیں بلائیے اور میرے اسلام کا انہیں علم ہونے سے پہلے ان سے میرے بارے میں معلومات کیجئے کیونکہ اگر انہیں میرے اسلام لانے کا علم ہوگیا تو پھر وہ میری نسبت ایسی باتیں کہیں گے جو مجھ میں نہیں ہیں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا جب وہ اندر داخل ہو گئے تو آپ نے فرمایا اے جماعت یہود! تمہارا ناس ہو ﷲ سے ڈرو کیونکہ اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں تم جانتے ہو کہ میں ﷲ کا سچا رسول ہوں اور سچا مذہب لے کر تمہارے پاس آیا ہوں لہذا مسلمان ہو جاؤ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ بات معلوم نہیں ہے تین مرتبہ یہی کہا آپ نے فرمایا اچھا بتاؤ عبد ﷲ بن سلام تم میں کیسے شخص ہیں؟ انہوں نے کہا وہ ہمارے سردار اور سردار کے بیٹے بڑے عالم کے بیٹے ہیں آپ نے فرمایا اچھا بتاؤ اگر وہ مسلمان ہو جائیں انہوں نے کہا خدا نہ کرے وہ مسلمان کیسے ہو سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا اچھا بتاؤ اگر وہ مسلمان ہو جائیں انہوں نے کہا خدا نہ کرے وہ تو مسلمان ہو ہی نہیں سکتے آپ نے فرمایا بتاؤ اگر وہ مسلمان ہو جائیں- انہوں نے کہا خدا نہ کرے وہ مسلمان ہو ہی نہیں سکتے آپ نے فرمایا اے ابن سلام ذرا ان کے سامنے تو آؤ وہ باہر نکلے اور کہا اے جماعت یہود! ﷲ سے ڈرو کیونکہ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں یقینا تم جانتے ہو کہ یہ ﷲ کے رسول ہیں اور سچا مذہب لے کر آئے ہیں یہودی کہنے لگے تم جھوٹے ہو پھر آپ نے ان کو باہر نکلوایا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment