کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جنگ خند ق سے واپس آنا
حدیث نمبر
3828
حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ حِبَّانُ بْنُ الْعَرِقَةِ وَهُوَ حِبَّانُ بْنُ قَيْسٍ مِنْ بَنِي مَعِيصِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ رَمَاهُ فِي الْأَکْحَلِ فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْخَنْدَقِ وَضَعَ السِّلَاحَ وَاغْتَسَلَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ يَنْفُضُ رَأْسَهُ مِنْ الْغُبَارِ فَقَالَ قَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ وَاللَّهِ مَا وَضَعْتُهُ اخْرُجْ إِلَيْهِمْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْنَ فَأَشَارَ إِلَی بَنِي قُرَيْظَةَ فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلُوا عَلَی حُکْمِهِ فَرَدَّ الْحُکْمَ إِلَی سَعْدٍ قَالَ فَإِنِّي أَحْکُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ الْمُقَاتِلَةُ وَأَنْ تُسْبَی النِّسَائُ وَالذُّرِّيَّةُ وَأَنْ تُقْسَمَ أَمْوَالُهُمْ قَالَ هِشَامٌ فَأَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ سَعْدًا قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّکَ تَعْلَمُ أَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أُجَاهِدَهُمْ فِيکَ مِنْ قَوْمٍ کَذَّبُوا رَسُولَکَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْرَجُوهُ اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّکَ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَإِنْ کَانَ بَقِيَ مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَيْئٌ فَأَبْقِنِي لَهُ حَتَّی أُجَاهِدَهُمْ فِيکَ وَإِنْ کُنْتَ وَضَعْتَ الْحَرْبَ فَافْجُرْهَا وَاجْعَلْ مَوْتَتِي فِيهَا فَانْفَجَرَتْ مِنْ لَبَّتِهِ فَلَمْ يَرُعْهُمْ وَفِي الْمَسْجِدِ خَيْمَةٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ إِلَّا الدَّمُ يَسِيلُ إِلَيْهِمْ فَقَالُوا يَا أَهْلَ الْخَيْمَةِ مَا هَذَا الَّذِي يَأْتِينَا مِنْ قِبَلِکُمْ فَإِذَا سَعْدٌ يَغْذُو جُرْحُهُ دَمًا فَمَاتَ مِنْهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
زکریا بن یحییٰ، عبدﷲ بن نمیر، ہشام بن عروہ، وہ اپنے والد سے، اور وہ حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ سعد کو جنگ خندق میں حبان بن عرفہ ایک قریشی نے تیر مارا جو کہ ہفت اندام کی رگ میں لگا آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے ان کے لئے مسجد میں ایک خیمہ لگا دیا تاکہ ان کی دیکھ بھال کر سکیں پھر آپ صلی ﷲ علیہ وسلم جنگ خندق سے واپس آئے ہتھیار اتارے غسل کیا کہ حضرت جبریل علیہ السلام آ گئے اور اپنے سر سے گردو غبار دور کر رہے تھے انہوں نے عرض کیا یا رسول ﷲ! آپ نے ہتھیار اتا دیئے خدا کی قسم! میں نے ابھی تک نہیں کھولے چلئے بنی قریظہ کی طرف چلیں چنانچہ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے جا کر بنی قریظہ کو گھیر لیا آخر آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کے فیصلہ پر راضی ہوکر بنو قریظہ قلعہ سے اتر آئے آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا سعد جو فیصلہ کردیں منظور کرلو پھر سعد آئے اور انہوں نے کہا کہ میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ جو لڑائی کے لائق ہیں ان کو قتل کردیا جائے اور بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے انہیں لونڈی غلام بنایا جائے اور ان کا مال مسلمانوں میں تقسیم کردیا جائے ہشام کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ سعد رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے زخمی ہونے کے بعد دعا کی کہ اے ﷲ! تو خوب جانتا ہے کہ مجھ کو کسی قوم سے اور خصوصا اس قوم سے جس نے تیرے رسول کو جھوٹا کہا اور مکہ سے نکا ل دیا لڑنے سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں اے ﷲ! میں جانتا ہوں کہ تو نے ہماری اور ان کی لڑائی ختم کردی پھر بھی اگر کوئی لڑائی باقی ہو تو مجھے تو زندہ رکھ تاکہ تیری راہ میں میں ان سے جہاد کروں اور اگر تیری طرف سے لڑائی کا سلسلہ بند کردیا گیا ہو پھر میرے زخم کو جاری کردے تاکہ میں اسی میں شہید ہو جاؤں- چنانچہ ان کے سینہ سے خون جاری ہوگیا جو ڈیرہ سے بہ بہ کر مسجد میں آ رہا تھا لوگ ڈر گئے اور بنی غفار سے پوچھنے لگے کہ یہ تمہارے خیمہ سے کیا بہ بہ کر آ رہا ہے پھر معلوم ہوا کہ حضرت سعد رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے زخم سے خون بہ رہا ہے آخر وہ اسی میں فوت ہو گئے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment