کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی مدینہ میں تشریف آوری کا بیان۔
حدیث نمبر
3643
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وُعِکَ أَبُو بَکْرٍ وَبِلَالٌ قَالَتْ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا فَقُلْتُ يَا أَبَتِ کَيْفَ تَجِدُکَ وَيَا بِلَالُ کَيْفَ تَجِدُکَ قَالَتْ فَکَانَ أَبُو بَکْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّی يَقُولُ کُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَی مِنْ شِرَاکِ نَعْلِهِ وَکَانَ بِلَالٌ إِذَا أَقْلَعَ عَنْهُ الْحُمَّی يَرْفَعُ عَقِيرَتَهُ وَيَقُولُ أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ کَحُبِّنَا مَکَّةَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا وَبَارِکْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ
عبد ﷲ بن یوسف مالک ہشام بن عروہ ان کے والد حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں کہ جب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو حضرت ابوبکر اور حضرت بلال کو بخارا آ گیا میں ان دونوں کے پاس گئی اور میں نے کہا ابا جان طبیعت کیسی ہے؟ اور اے بلال تمہاری طبیعت کیسی ہے؟ حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کا یہ حال تھا کہ جب انہیں بخار چڑھتا تو وہ یہ شعر پڑھتے ہر شخص اپنے گھر والوں میں صبح کرتا ہے اور موت اس کے جوتے کے تسمہ سے بھی زیادہ قریب ہے- اور بلال کا بخار اترتا تو وہ زور زور سے یہ اشعار پڑھتے تھے کاش مجھے معلوم ہوجاتا کہ کیا میں کوئی رات وادی (مکہ) میں گزار سکوں گا کہ میرے چاروں طرف اذخر اور جلیل گھاس ہو اور مجنہ نامی چشمے پر کب پہنچوں گا اور مجھے شامہ اور طفیل نامی پہاڑیاں کبھی دکھائی دیں گی- حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس آئی اور یہ حالت آپ کو بتائی تو آپ نے یہ دعا فرمائی اے خدا مدینہ ہمیں محبوب بنا دے جیسا کہ مکہ سے ہمیں محبت ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ اس کی آب و ہوا کو صحت بخش بنا دے اس کے مد اور صاع (دو پیمانہ ہیں) میں ہمارے لئے برکت دے اور اس کے بخار کو منتقل کرکے جحفہ بھیج دے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment