کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
جنگ خیبر کا بیان
حدیث نمبر
3900
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَخَلَّفَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَيْبَرَ وَکَانَ رَمِدًا فَقَالَ أَنَا أَتَخَلَّفُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَحِقَ بِهِ فَلَمَّا بِتْنَا اللَّيْلَةَ الَّتِي فُتِحَتْ قَالَ لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا أَوْ لَيَأْخُذَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلٌ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ يُفْتَحُ عَلَيْهِ فَنَحْنُ نَرْجُوهَا فَقِيلَ هَذَا عَلِيٌّ فَأَعْطَاهُ فَفُتِحَ عَلَيْهِ
عبدﷲ بن مسلمہ، حاتم، یزید بن ابوعبید، سلمہ رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ آشوب چشم میں مبتلا تھے (اس لئے) وہ جنگ خیبر میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ نہ آئے پھر حضرت علی نے کہا کہ میں آنحضرت سے پیچھے رہ جاؤں (یہ نہیں ہو سکتا) لہذا وہ بھی بعد میں آ گئے جب وہ رات آئی جس کی صبح کو خیبر فتح ہوا ہے تو آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کل میں ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا یا یہ فرمایا کل ایسا شخص جھنڈا لے گا جس سے ﷲ اور رسول محبت رکھتے ہیں اسی کے ہاتھ پر فتح حاصل ہوگی لہذا ہم اس جھنڈے کے امیدوار تھے کہ آنحضرت سے کہا گیا، لیجئے وہ علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ آ گئے لہذا آپ نے انہیں جھنڈا دیا اور ان کے ہاتھ پر فتح ہوئی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment