Saturday, May 7, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1365,TotalNo:3901


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
جنگ خیبر کا بیان
حدیث نمبر
3901
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَی يَدَيْهِ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَبَاتَ النَّاسُ يَدُوکُونَ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطَاهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطَاهَا فَقَالَ أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقِيلَ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَشْتَکِي عَيْنَيْهِ قَالَ فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ فَأُتِيَ بِهِ فَبَصَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ وَدَعَا لَهُ فَبَرَأَ حَتَّی کَأَنْ لَمْ يَکُنْ بِهِ وَجَعٌ فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ فَقَالَ عَلِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُقَاتِلُهُمْ حَتَّی يَکُونُوا مِثْلَنَا فَقَالَ انْفُذْ عَلَی رِسْلِکَ حَتَّی تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَی الْإِسْلَامِ وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِکَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَکَ مِنْ أَنْ يَکُونَ لَکَ حُمْرُ النَّعَمِ
قتیبہ بن سعید، یعقوب بن عبدالرحمن، ابوحازم، سہل بن سعد رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے خیبرکے دن فرمایا میں کل کو یہ پرچم ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر ﷲ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا جو ﷲ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور ﷲ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہیں سہیل کہتے ہیں کہ لوگوں نے وہ رات بڑی بے چینی سے گزاری کہ دیکھئے کل کسے پرچم عطا ہوتا ہے جب صبح ہوئی تو لوگ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے اور ہر ایک اس پرچم کے ملنے کا خواہش مند تھا آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا علی بن ابوطالب کہاں ہیں؟ عرض کیا گیا یا رسول ﷲ! ان کی آنکھیں دکھتی ہیں آپ نے فرمایا ان کے پاس آدمی بھیج کر انہیں بلاؤ چناچہ انہیں بلایا گیا تو آنحضرت نے اپنا لعاب دہن ان کی آنکھوں میں لگا کر ان کے لئے دعا کی تو وہ ایسے تندرست ہو گئے گویا انہیں کوئی تکلیف ہی نہ تھی تو آپ نے انہیں پرچم دے دیا حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول ﷲ! کیا میں ان سے اس وقت تک جہاد کرتا رہوں جب تک وہ ہماری طرح مسلمان نہ ہو جائیں آپ نے فرمایا تم سیدھے جا کر ان کے میدان میں اتر پڑو پھر انہیں اسلام کی دعوت دو اور اسلام میں ﷲ کے جو حقوق ان پر واجب ہوں گے وہ بتاؤ قسم خدا کی! تمہارے ذریعہ ﷲ تعالیٰ کا کسی کو (اسلام کی طرف) ہدایت فرما دینا تمہارے لئے سرخ (عمدہ) اونٹوں سے بہترہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment