کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
یہ باب عنوان سے خالی ہے۔
حدیث نمبر
3656
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ أَبَا الْمِنْهَالِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُطْعِمٍ قَالَ بَاعَ شَرِيکٌ لِي دَرَاهِمَ فِي السُّوقِ نَسِيئَةً فَقُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ أَيَصْلُحُ هَذَا فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ بِعْتُهَا فِي السُّوقِ فَمَا عَابَهُ أَحَدٌ فَسَأَلْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ فَقَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ هَذَا الْبَيْعَ فَقَالَ مَا کَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ وَمَا کَانَ نَسِيئَةً فَلَا يَصْلُحُ وَالْقَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَاسْأَلْهُ فَإِنَّهُ کَانَ أَعْظَمَنَا تِجَارَةً فَسَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَقَالَ مِثْلَهُ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً فَقَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ وَقَالَ نَسِيئَةً إِلَی الْمَوْسِمِ أَوْ الْحَجِّ
علی بن عبد ﷲ سفیان عمرو ابوالمنہال عبدالرحمن بن مطعم سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میرے ایک ساجھی نے چند اشرفیاں بازار میں ادھار فروخت کیں تو میں نے کہا سبحان ﷲ! کیا یہ جائز ہے؟ اس نے جواب دیا سبحان ﷲ! ﷲ کی قسم! میں نے انہیں (بھرے) بازار میں فروخت کیا تو کسی نے بھی برا نہیں سمجھا تو میں نے حضرت براء بن عازب سے دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم (ہجرت کرکے مدینہ) آئے اور ہم اس قسم کی بیع و شرا کرتے تھے تو آپ نے فرمایا (سونے چاندی میں) معاملہ دست بدست ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں اور جو ادھار ہو تو جائز نہیں اور تم زید بن ارقم کے پاس جا کر بھی دریافت کرلو کیونکہ وہ ہم میں بڑے تاجر ہیں تو میں نے حضرت زید بن ارقم سے پوچھا تو انہوں نے بھی براء بن عازب جیسا جوا ب دیا اور کبھی سفیان نے یہ الفاظ روایت کئے کہ قَدِمَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ وَقَالَ نَسِيئَةً إِلَی الْمَوْسِمِ أَوْ الْحَجِّ-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment