کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
یہ باب عنوان سے خالی ہے۔
حدیث نمبر
3655
بَاب حَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ عَنْ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ حَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ بَلَغَهُ مَقْدَمُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَأَتَاهُ يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَائَ فَقَالَ إِنِّي سَائِلُکَ عَنْ ثَلَاثٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ مَا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ وَمَا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْکُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَمَا بَالُ الْوَلَدِ يَنْزِعُ إِلَی أَبِيهِ أَوْ إِلَی أُمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي بِهِ جِبْرِيلُ آنِفًا قَالَ ابْنُ سَلَامٍ ذَاکَ عَدُوُّ الْيَهُودِ مِنْ الْمَلَائِکَةِ قَالَ أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ فَنَارٌ تَحْشُرُهُمْ مِنْ الْمَشْرِقِ إِلَی الْمَغْرِبِ وَأَمَّا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْکُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَزِيَادَةُ کَبِدِ الْحُوتِ وَأَمَّا الْوَلَدُ فَإِذَا سَبَقَ مَائُ الرَّجُلِ مَائَ الْمَرْأَةِ نَزَعَ الْوَلَدَ وَإِذَا سَبَقَ مَائُ الْمَرْأَةِ مَائَ الرَّجُلِ نَزَعَتْ الْوَلَدَ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّکَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهُتٌ فَاسْأَلْهُمْ عَنِّي قَبْلَ أَنْ يَعْلَمُوا بِإِسْلَامِي فَجَائَتْ الْيَهُودُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فِيکُمْ قَالُوا خَيْرُنَا وَابْنُ خَيْرِنَا وَأَفْضَلُنَا وَابْنُ أَفْضَلِنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ قَالُوا أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِکَ فَأَعَادَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا مِثْلَ ذَلِکَ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَالُوا شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا وَتَنَقَّصُوهُ قَالَ هَذَا کُنْتُ أَخَافُ يَا رَسُولَ اللَّهِ
حامد بن عمر بشر بن مفضل حمید حضرت انس رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی مدینہ میں تشریف آوری کی خبر جب عبد ﷲ بن سلام کو پہنچی تو انہوں نے آکر آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم سے چند سوالات کئے اور کہا میں آپ سے تین ایسی باتیں دریافت کروں گا کہ جنہیں نبی کے سوائے کوئی نہیں جانتا سب سے پہلی قیامت کی علامت کیا ہے؟ اور سب سے پہلی غذا جسے اہل جنت کھائیں گے کیا ہے؟ اور کیا وجہ ہے کہ بچہ (کبھی) باپ کے مشابہ ہوتا ہے اور (کبھی) ماں کے؟ آپ نے فرمایا جبریل نے مجھے ابھی ان کا جواب بتلایا ہے ابن سلام نے کہا کہ وہ تو یہودیوں کے خصوصی دشمن ہیں آپ نے فرمایا قیامت کی سب سے پہلی علامت ایک آگ ہوگی جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف لے جائے گی اور اہل جنت کی سب سے پہلی غذا مچھلی کی کلیجی کا ٹکڑا ہوگا اور رہا بچہ کا معاملہ تو جب مرد کا نطفہ عورت کے نطفہ پر غالب آ جائے تو بچہ باپ کی صورت پر ہوتا ہے اور اگر عورت کا نطفہ مرد کے نطفہ پر غالب آ جائے تو بچہ عورت کا مشابہ ہوتا ہے انہوں نے کہا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ (پھر) کہا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم یہودی بڑی افترا پرداز قوم ہے میرے اسلام لانے کا انہیں علم ہونے سے پہلے آپ ان سے میرے بارے میں دریافت کیجئے تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے (یہود کو بلوا بھیجا جب وہ آ گئے تو آپ نے یہ) فرمایا کہ عبد ﷲ بن سلام تم میں کیسے آدمی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا ہم میں سب سے بہتر اور بہترین آدمی کے لڑکے ہم میں سب سے افضل اور افضل کے لڑکے آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا بتاؤ تو اگر عبد ﷲ بن سلام مسلمان ہو جائیں تو کیا تم بھی ہو جاؤ گے؟ انہوں نے کہا ﷲ انہیں اس سے محفوظ رکھے آپ نے دوبارہ یہی فرمایا تو انہوں نے وہی جواب دیا پھر عبد ﷲ بن سلام ان کے سامنے (باہر) نکل آئے اور کہا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ تو یہودیوں نے کہا یہ ہم میں سب سے بدتر اور بدتر کی اولاد ہیں اور ان کی برائیاں بیان کرنے لگے انہوں نے عرض کیا یا رسول ﷲ مجھے ان سے اسی بات کا اندیشہ تھا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment