Sunday, May 1, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1117,TotalNo:3653


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اے خدا میرے صحابہ کی ہجرت کو قبول فرما۔
حدیث نمبر
3653
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ قَزَعَةَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ عَادَنِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ مَرَضٍ أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَی الْمَوْتِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَلَغَ بِي مِنْ الْوَجَعِ مَا تَرَی وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلَا يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ لِي وَاحِدَةٌ أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي قَالَ لَا قَالَ فَأَتَصَدَّقُ بِشَطْرِهِ قَالَ الثُّلُثُ يَا سَعْدُ وَالثُّلُثُ کَثِيرٌ إِنَّکَ أَنْ تَذَرَ ذُرِّيَّتَکَ أَغْنِيَائَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَکَفَّفُونَ النَّاسَ وَلَسْتَ بِنَافِقٍ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا آجَرَکَ اللَّهُ بِهَا حَتَّی اللُّقْمَةَ تَجْعَلُهَا فِي فِي امْرَأَتِکَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي قَالَ إِنَّکَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً وَلَعَلَّکَ تُخَلَّفُ حَتَّی يَنْتَفِعَ بِکَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِکَ آخَرُونَ اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَی أَعْقَابِهِمْ لَکِنْ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُوُفِّيَ بِمَکَّةَ وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ وَمُوسَی عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَکَ
یحییٰ بن قزعہ ابراہیم زہری عامر بن سعد رضی ﷲ تعالیٰ عنہ بن مالک اپنے والد (حضرت سعد) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے سال اس مرض میں میری عیادت فرمائی جس میں میرے بچنے کی کوئی امید نہیں تھی میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم! میری تکلیف کی شدت کا حال آپ کو معلوم ہی ہے میں مالدار آدمی ہوں سوائے ایک لڑکی کے میرا کوئی وارث نہیں ہے تو کیا میں اپنا دو تہائی مال خیرات کردوں اور؟ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اسے سعد تہائی مال خیرات کردو اور تہائی بھی بہت ہے تم اپنی اولاد کو مال دار چھوڑ جاؤ تو اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑو کہ وہ لوگوں سے بھیک مانگتے پھریں احمد بن یونس نے ابراہیم سے یہ الفاظ بھی روایت کئے ہیں کہ جو کچھ بھی تم لوجہ ﷲ خرچ کروگے تو ﷲ تعالیٰ تمہیں اس کا ثواب عطا فرمائے گا یہاں تک کہ وہ لقمہ جو تم اپنی بی بی کے منہ میں رکھو اس پر بھی ثواب ملے گا میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کیا میں اپنے ساتھیوں کے بعد مکہ میں تنہا چھوڑ دیا جاؤں گا آپ نے فرمایا تم چھوڑے نہ جاؤ گے اگر چھوڑے بھی گئے تو مقصود تو حاصل ہوتا رہے گا کہ تم جو عمل بھی محض لوجہ ﷲ کروگے تو اس کی وجہ سے تمہارا درجہ اور تمہاری عزت زیادہ ہوتی رہے گی اور امید ہے کہ تم میرے بعد تک زندہ رہو گے حتیٰ کہ کچھ لوگوں کو تم سے نفع پہنچے گا کچھ کو ضرر اے ﷲ میرے صحابہ کی ہجرت کو قبول فرما اور انہیں الٹے پاؤں واپس نہ فرما لیکن قابل رحم تو سعد بن خولہ ہے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم مکہ میں ان کی وفات پر افسوس فرمایا کرتے تھے احمد بن یونس اور موسیٰ نے ابراہیم سے ان تذر و رثتک نقل کیا ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment