کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح اپنے اصحاب کے درمیان اخوت قائم کرائی
حدیث نمبر
3654
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْمَدِينَةَ فَآخَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ فَعَرَضَ عَلَيْهِ أَنْ يُنَاصِفَهُ أَهْلَهُ وَمَالَهُ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بَارَکَ اللَّهُ لَکَ فِي أَهْلِکَ وَمَالِکَ دُلَّنِي عَلَی السُّوقِ فَرَبِحَ شَيْئًا مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَيَّامٍ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهْيَمْ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ فَمَا سُقْتَ فِيهَا فَقَالَ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ
محمد بن یوسف سفیان حمید حضرت انس رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ عبدالرحمن بن عوف جب مدینہ آئے تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ان کے اور سعد بن ربیع کے درمیان مواخات قائم کردی سعد نے ان سے درخواست کی کہ میری بیویوں اور میرے مال کو آدھا آدھا بانٹ لو تو عبدالرحمن نے کہا ﷲ تعالیٰ تمہارے گھر والوں اور مال میں برکت عطا فرمائے مجھے بازار بتا دو وہاں عبدالرحمن کو (تجارت کرکے) نفع میں کچھ پنیر اور کچھ گھی ملا چند دن کے بعد رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے عبدالرحمان پر زردی کا کچھ اثر دیکھا تو آپ نے فرمایا اے عبدالرحمن یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم میں نے ایک انصاری خاتون سے نکاح کرلیا ہے آپ نے فرمایا کہ تم نے کتنا مہر دیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ایک گٹھلی برابر سونا تو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ولیمہ کرو اگرچہ ایک ہی بکری سے ہو-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment