Sunday, May 1, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1302,TotalNo:3838


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
غزوہ ذات الرقاع کا بیان
حدیث نمبر
3838
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُ فَأَدْرَکَتْهُمْ الْقَائِلَةُ فِي وَادٍ کَثِيرِ الْعِضَاهِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْعِضَاهِ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ سَمُرَةٍ فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ قَالَ جَابِرٌ فَنِمْنَا نَوْمَةً ثُمَّ إِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُونَا فَجِئْنَاهُ فَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ جَالِسٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ سَيْفِي وَأَنَا نَائِمٌ فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتًا فَقَالَ لِي مَنْ يَمْنَعُکَ مِنِّي قُلْتُ اللَّهُ فَهَا هُوَ ذَا جَالِسٌ ثُمَّ لَمْ يُعَاقِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَاتِ الرِّقَاعِ فَإِذَا أَتَيْنَا عَلَی شَجَرَةٍ ظَلِيلَةٍ تَرَکْنَاهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ الْمُشْرِکِينَ وَسَيْفُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلَّقٌ بِالشَّجَرَةِ فَاخْتَرَطَهُ فَقَالَ تَخَافُنِي قَالَ لَا قَالَ فَمَنْ يَمْنَعُکَ مِنِّي قَالَ اللَّهُ فَتَهَدَّدَهُ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَصَلَّی بِطَائِفَةٍ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ تَأَخَّرُوا وَصَلَّی بِالطَّائِفَةِ الْأُخْرَی رَکْعَتَيْنِ وَکَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعٌ وَلِلْقَوْمِ رَکْعَتَانِ وَقَالَ مُسَدَّدٌ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ اسْمُ الرَّجُلِ غَوْرَثُ بْنُ الْحَارِثِ وَقَاتَلَ فِيهَا مُحَارِبَ خَصَفَةَ وَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَخْلٍ فَصَلَّی الْخَوْفَ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ نَجْدٍ صَلَاةَ الْخَوْفِ وَإِنَّمَا جَائَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَّامَ خَيْبَرَ
اسماعیل، ان کے بھائی سلیمان، محمد بن ابی عتیق، ابن شہاب، سنان بن ابی سنان الدولی، حضرت جابر بن عبد ﷲ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت جابر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا کہ ہم نے رسول اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کے ہمراہ نجد میں جہاد کیا پھر جب آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو میں بھی آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کے ہمراہ واپس آیا پھر ایک ایسے جنگل میں دوپہر ہو گئی جس میں بہت کانٹے تھے حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم وہیں اتر گئے وہ لوگ جنگل میں درخت تلاش کرنے لگے آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم ایک گھنے درخت کے نیچے آرام کرنے لگے اور تلوار کو اس درخت کے ساتھ لٹکا دیا حضرت جابر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ابھی سوئے ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے ہم کو پکارا ہم آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس گئے کیا دیکھتے ہیں کہ ایک دیہاتی (اعرابی) آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہے آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا میں سو رہا تھا اور اس نے سونے کی حالت میں میرے اوپر تلوار کھینچ لی میں اسی وقت اٹھ بیٹھا تو یہ کہنے لگا اب تم کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا؟ میں نے جواب دیا ﷲ! دیہاتی آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے اس کو کچھ سزا نہیں دی اور یہ واقعہ بیان فرماتے رہے- ابان کہتے ہیں ہم سے یحییٰ بن کثیر نے ان سے حضرت جابر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ جنگ ذات الرقاع میں ہم رسول اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے جب کوئی سایہ دار درخت ملتا تو ہم اس کو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کے لئے چھوڑ دیتے ایک مشرک نے رسول اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کی درخت میں لٹکی ہوئی تلوار کھینچ لی اور کہا! تم مجھ سے ڈرتے ہو یا نہیں؟ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے جوا ب دیا نہیں، اس نے کہا تم کو آج مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ﷲ! اصحاب رسول صلی ﷲ علیہ وسلم نے اسے ڈانٹا اور دھمکایا پھر آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ایک جماعت کے ساتھ دو رکعتیں پڑھیں پھر وہ ہٹ گئے- دشمن کے سامنے چلے گئے آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کی چار ہوئیں دو فرض دو نفل اور لوگوں کی دو دو رکعتیں ہوئیں- مسدد کہتے ہیں کہ ابوعوانہ ابوالبشر نے اس کا نام غورث بن حارث بتایا- آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے یہ جنگ محارب خصفہ کے لوگوں سے لڑی تھی ابوالزبیر جابر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے کہتے ہیں کہ ہم آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ نخل میں تھے- آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے خوف کی نماز پڑھی- ابوہریرہ کہتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کے جہاد میں خوف کی نماز پڑھی- حالانکہ ابوہریرہ خیبر کے دنوں میں آنحضرت کے پاس آئے تھے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment